ملتان: 6700 غیرملکی سمز پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، مسافر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
برطانیہ سے 6700 غیر ملکی موبائل فون سمز پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔
امیگریشن حکام کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن نے ملتان ایئرپورٹ سے مسافر کو گرفتار کرلیا۔
امیگریشن ذرائع کے مطابق مسافر محمد زوہیب دوحہ سے پرواز نمبر کیو آر 618 سے ملتان پہنچا تھا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق مشکوک مسافر کو روکا گیا جو برطانیہ سے پاکستان کا سفر کر رہا تھا، اسکے سامان کی تلاشی پر 6 ہزار 700 غیر ملکی سمز برآمد ہوئیں۔
حکام کے مطابق مسافر کو برآمد شدہ سمز کے ساتھ ایف آئی اے سائبر کرائم ملتان کےحوالے کر دیا گیا۔ ملزم کے خلاف پی ای سی اے 2016 کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔