موسم سرما کو کھانے کا موسم بھی کہا جاتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی ہر طرف گرم گرم غذاؤں کے اسٹالز اور ہوٹلز پر رش لگ جاتا ہے جب کہ گھروں میں بھی لوگ گرم غذاؤں کو اہتمام سے تیار کرتے ہیں۔

موسم سرما میں زیادہ تر افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو سردیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسی گرم غذائیں زیادہ سے زیادہ کھائیں جو سردی کی شدت کو کم کرتی ہیں۔تاہم بعض گرم غذائیں ایسی بھی ہیں جنہیں سردیوں میں زیادہ کھانے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ہم درج ذیل کچھ ایسی غذاؤں کی فہرست دے رہے ہیں، جنہیں سردیوں کے لیے اچھی غذائیں مانا جاتا ہے لیکن اگر ان کا زیادہ استعمال کیا جائے تو مسائل ہو سکتے ہیں۔

دودھ سے بنی مصنوعات

اگرچہ دودھ کو مکمل غذا مانا جاتا ہے مگر موسم سرما میں بہتر یہی ہے کہ اس کا استعمال کم کردینا چاہیے، ماہرین کے مطابق دودھ بلغم کا باعث بنتا ہے، جو گلے میں خراش کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ٹھنڈے یا گرم مشروبات

ہر شخص اس موسم میں چائے کافی کا استعمال پسند کرتا ہے مگر ان مشروبات میں موجود چربی اور کیفین کی مقدار کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے، یہ مشروبات جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، تو ان سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر بہت زیادہ پینے سے گریز کریں بلکہ پانی کو ترجیح دیں۔

سرخ گوشت اور انڈے

یہ دونوں چیزیں پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، مگر بہت زیادہ پروٹین گلے میں مواد کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر پراسیس گوشت یا زیادہ چربی والا گوشت مسئلے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ مچھلی اور مرغی نسبتاً بہتر آپشن ہیں۔

تلی ہوئی غذائیں

ڈیپ فرائی غذائیں ٹرانس فیٹ سے بھی بھرپور ہوتی ہیں اور غذائی فائدہ جسم کو پہنچانے کے بغیر ہی کیلوریز کی مجموعی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں، اس طرح کی غذائیں بدہضمی یا معدے کے دیگر مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

غیر موسمی پھل

کبھی بھی ایسے پھل کو استعمال نہ کریں جو کسی اور موسم کا ہو کیونکہ وہ تازہ نہیں ہوتا اور بیماری یا طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس کی جگہ زیادہ ترش پھل جیسے مالٹے، کینو وغیرہ کا استعمال کریں جو جسم کے میٹابولزم کو بہتر کرتے ہیں۔

چینی

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موسم سرما میں زیادہ میٹھا کھانا جسمانی دفاعی نظام کو کمزور کرسکتا ہے، جو مختلف امراض کے لیے جسم کو آسان شکار بنا دیتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بن سکتا ہے کا باعث بن جاتا ہے

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بحرالکاہل میں ایل نینو سرگرم، پاکستان کے موسم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟