اسلام آباد : سینیٹر فیصل واوڈا نےکہا ہےکہ علی امین گنڈاپور مجھے وزیر اعلیٰ  خیبرپختونخوا کے عہدے پرنظر نہیں آرہے، پی ٹی آئی کے ٹرمپ کارڈ کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ  علی امین گنڈاپور مجھے وزارت اعلیٰ پربھی نظر نہیں آرہے، یں نےکہا تھا ٹرمپ کارڈ سے پی ٹی آئی کو مایوسی ہوگی، ٹرمپ کارڈ کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لیے پنجاب سے کوئی نہیں نکلےگا،  اب تو بانی پی ٹی آئی خود کہہ رہے ہیں کہ ان کے رہنما کمپرومائزڈ ہیں۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سطح پر نہ کوئی مذاکرات ہیں نہ ڈیل ہے اور نہ ڈھیل ہے، جس حکومت کو پی ٹی آئی فارم 47 کی حکومت کہتی تھی اس سے مذاکرات کیوں کیے؟

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ  اس حکومت میں بھی ایک شہزاد اکبر اور ایک اعظم خان موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے نہیں چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آئیں، 190ملین پاؤنڈ کا کیس اوپن اینڈ شٹ کیس تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان