امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے مسافر بردار طیارے سے ٹکرانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
امریکا میں ملٹری ہیلی کاپٹر فضا میں ایک مسافر بردار طیارے سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں دونوں میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تصادم کے فوری کے بعد لگنے والی آگ کے باعث مسافر بردار طیارہ اور ہیلی کاپٹر دریا برد ہوگئے۔
طیارے میں 64 افراد موجود تھے جب کہ امریکی ملٹری ہیلی کاپٹر میں 4 اہلکار سوار تھے۔ تمام افراد ملبے سمیت ڈوب گئے۔
امدادی کاموں کے دوران دریا میں سے 18 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ دیگر کی تلاش کے لیے ماہر غوطہ خوروں کی ٹیم ریسکیو آپریشن کر رہی ہے۔
فوجی ہیلی کاپٹر اور مسافر بردار طیارے کے درمیان خوفناک تصادم کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا۔ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی ملٹری ہیلی کاپٹر مسافر طیارے کی جانب بڑھ رہا ہے اور دونوں کے درمیان ہونے والے تصادم سے خوفناک آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا یا دہشت گردی کا کوئی عنصر بھی ملوث ہوسکتا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق مسافر بردار طیارے نے کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن کے لیے پرواز بھری تھی۔
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر مسافر بردار طیارے سے دریائے پوٹومیک کے اورپر رن وے کے قریب ٹکرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسافر بردار طیارے ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔