تہران میں پاکستان اور افغانستان کے وزرائے داخلہ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
پاکستان اور افغانستان کے وزرائے داخلہ نے تہران میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے مصافحہ بھی کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاک افغان مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ جس طرح ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، انہیں بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔
چار روزہ مذاکرات کے بعد وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بات چیت میں قابل عمل حل نہیں نکالا جاسکا۔ طالبان نے شواہد کے باوجود سرحد پار دہشت گردی روکنے کی کوئی ضمانت نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا، افغان وفد نے بار بار گفتگو کے اصل مسئلے سے رخ موڑا اور کلیدی نکتے سے انحراف کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جو شواہد پیش کیے وہ کافی اور ناقابل تردید تھے۔ مذاکرات کا واحد ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملوں کو رکوانا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغان کہ پاکستان
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔