اسلام آباد(زبیر قصوری)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے یوفون کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کو حاصل کرنے کے اعلان کے ایک سال بعد، یہ معاہدہ ایک ریگولیٹری رکاوٹ سے دوچار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے دو بڑے موبائل آپریٹرز کے انضمام میں تاخیر ہو رہی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دسمبر 2023 میں طے پانے والا یہ انضمام سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے روکا گیا ہے۔ مسابقت کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے طویل سماعتوں کے بعد اس معاہدے کی منظوری کے باوجود، ایس ای سی پی گزشتہ چھ ماہ سے اپنا جائزہ لے رہا ہے۔
ایس ای سی پی سے دسمبر 2024 کے آخر تک فیصلہ کا اعلان کرنے کی توقع تھی، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔ اس تاخیر نے مبینہ طور پر دونوں کمپنیوں کے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے اور پاکستان کے ٹیلی کام اور آئی ٹی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔
ایک ذریعہ نے کہا، “دونوں کمپنیوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ایس ای سی پی فیصلے میں تاخیر کیوں کر رہا ہے۔”
وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے ایک سینئر عہدیدار نے تجویز پیش کی کہ ایس ای سی پی کی عدم فعالیت دیگر بڑے ٹیلی کام کھلاڑیوں کے دباؤ کی وجہ سے ہو سکتی ہے جو انضمام سے نقصان اٹھائیں گے۔ انہوں نے پی ٹی سی ایل کے 2007 سے واجب الادا 800 ملین ڈالر کے قرض پر پاکستان میں کام کرنے والی ایک اور غیر ملکی ٹیلی کام کمپنی ایٹیصالات کے ساتھ جاری تنازعے کی طرف بھی اشارہ کیا۔
اس انضمام سے 75 ملین سے زیادہ صارفین کے ساتھ ایک مشترکہ ادارہ وجود میں آئے گا، جو اسے پاکستان کا سب سے بڑا موبائل آپریٹر بنا دے گا۔ یوفون کوریج کو بہتر بنانے کے لیے 2,600 سے زیادہ نئے موبائل ٹاورز نصب کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے، جس سے ممکنہ طور پر مسابقت میں اضافہ ہوگا اور دیگر آپریٹرز کو اپنی خدمات بہتر بنانے پر مجبور کیا جا سکے گا۔
پی ٹی اے کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ ایس ای سی پی کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد اتھارٹی انضمام کی فوری منظوری کے لیے تیار ہے۔ عہدیدار نے کہا، “اگر ایس ای سی پی آج فیصلہ کرتا ہے، تو پی ٹی اے ایک ماہ کے اندر اپنی منظوری جاری کر سکتا ہے۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایس ای سی پی کی جانب سے ٹیلی کام

پڑھیں:

دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم

جنوبی کوریا کی سیئول ہائیکورٹ نے ملک کے بڑے صنعتی و کاروباری ادارے ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سوہ یونگ کو 944 ارب جنوبی کوریائی وون (تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر) ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس مقدمے کو ‘ صدی کی طلاق’ قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالتی فیصلہ ابھی حتمی نہیں اور اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ یہ رقم اس سے پہلے سنائے گئے 1.38 کھرب وون کے فیصلے سے کم ہے، جو 2024 میں عدالت نے سابقہ اہلیہ کے حق میں دیا تھا۔

چے تے وون نے عوام سے معذرت کر لی

فیصلے کے بعد چیئرمین چے تے وون کے وکلا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ طلاق کی کارروائی کے باعث عوام میں پیدا ہونے والی تشویش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا میں ہر شہری کی عمر اچانک ایک یا 2 برس کم کیسے ہوگئی؟

وکلا کے مطابق ‘چیئرمین چے تے وون اس بات پر گہرا افسوس کرتے ہیں کہ طلاق کی کارروائی نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا۔ عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور ردعمل سامنے لایا جائے گا۔

3 دہائیوں پر محیط شادی کیسے ٹوٹی؟

چے تے وون اور روہ سوہ یونگ کی شادی 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہی۔ یہ رشتہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہوا جب روہ سوہ یونگ کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے ایک دوسری خاتون سے تعلقات کے نتیجے میں ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔

روہ سوہ یونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر روہ تے وو کی صاحبزادی ہیں، جس کے باعث یہ مقدمہ ابتدا ہی سے ملکی میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

عدالت نے کیا قرار دیا؟

ابتدائی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ سابق صدر روہ تے وو نے اپنے داماد چے تے وون کو 30 ارب وون فراہم کیے تھے، جنہیں خاندانی کاروبار کی ترقی میں استعمال کیا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ کو 1.38 کھرب وون ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں:’چین نے ہمارے ساتھ سخت رویہ اپنایا‘ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 155 فیصد ٹیرف عائد کردیا

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کے مبینہ خفیہ فنڈ اور غیر ظاہر شدہ رقوم کو قانونی طور پر ازدواجی اثاثے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی قانونی جائزے کے بعد ہائی کورٹ نے نظرثانی کرتے ہوئے ادائیگی کی رقم کم کر کے 944 ارب وون مقرر کی۔

ایس کے گروپ اور عالمی کاروباری اہمیت

چے تے وون جنوبی کوریا کے دوسرے بڑے کاروباری گروپ ایس کے گروپ کے چیئرمین ہیں، جبکہ گروپ کی ذیلی کمپنی ایس کے ہائنکس دنیا کی نمایاں سیمی کنڈکٹر کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔

ایس کے ہائنکس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی جدید میموری چپس تیار کرتی ہے اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا سمیت عالمی اداروں کو سپلائی فراہم کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس نے جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ قائم کیے۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے پر 30 سال قید کی سزا

رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے امریکی مارکیٹ میں اپنی لسٹنگ کے ذریعے 26.5 ارب ڈالر جمع کیے، جسے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کسی نمایاں غیر ملکی کمپنی کی تاریخ کی بڑی پیشکشوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ مقدمہ کئی برسوں سے جنوبی کوریا کی عدالتی تاریخ کے اہم ترین خاندانی تنازعات میں شامل ہے۔ ایک جانب یہ ملک کے طاقتور کاروباری خاندان سے متعلق ہے، جبکہ دوسری جانب سابق صدر کے خاندان کی شمولیت نے اسے غیر معمولی اہمیت دی۔ اسی وجہ سے مقامی میڈیا نے اسے ‘طلاق کی صدی’ کا نام دیا۔

تازہ عدالتی فیصلہ اگرچہ سابق حکم کے مقابلے میں کم مالیت کا ہے، تاہم 944 ارب وون کی رقم اب بھی دنیا کے مہنگے ترین طلاقی تصفیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ چونکہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے، اس لیے امکان ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی مزید جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر جنوبی کوریا چے تے وون روہ سوہ یونگ سپریم کورٹ۔ سیئول ہائیکورٹ صاحبزادی صدر روہ تے وو عدالت

متعلقہ مضامین

  • دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری