پرنس ولیم کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن اپنے بڑے بیٹے پرنس جارج کی بورڈنگ اسکول منتقلی کے فیصلے پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

’ریڈار‘ ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے ایک شاہی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ’کیٹ اس بات پر دل شکستہ ہیں کہ پرنس جارج کو ایک اعلیٰ درجے کے پرائیویٹ اسکول میں بھیجا جارہا ہے جو کئی میل دور واقع ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: شہزادے جارج کی سالگرہ، شہزادی شارلٹ کو بھی اہم ذمہ داری مل گئی

کیٹ مڈلٹن جو حال ہی میں پرنس جارج کی 12ویں سالگرہ منا چکی ہیں، اپنے بیٹے کو خود سے دور بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں، وہ چاہتی تھیں کہ جارج ان کے قریب رہے اور وہ اس کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’کیٹ مڈلٹن واقعی غمزدہ اور پریشان ہیں، وہ اپنے ننھے بیٹے کو کسی ایسے مقام پر نہیں بھیجنا چاہتیں جو ان کے گھر ایڈیلیڈ کاٹیج، وِنڈسر سے بہت دور ہو۔‘

رپورٹ کے مطابق پرنس جارج کو ستمبر 2026 میں ایک ایلیٹ بورڈنگ اسکول میں داخل کیا جانا ہے، جس کے بعد ان کی مستقل غیر موجودگی کیٹ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی راہیں جدا ہونے والی ہیں؟

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ’کیٹ، جو گزشتہ برس کینسر کی تشخیص کے بعد بڑی آزمائش سے گزر چکی ہیں، اب اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ لیکن جارج کی روانگی کے بعد انہیں یہ موقع میسر نہیں آئے گا، جس سے وہ مطمئن نہیں ہوں گی۔‘

یاد رہے کہ کیٹ مڈلٹن نے حال ہی میں 9 ماہ تک جاری رہنے والی احتیاطی کیموتھراپی مکمل کی ہے اور اس وقت بیماری کے ’ری میشن‘ مرحلے میں ہیں، تاہم پرنس جارج کی ممکنہ جدائی نے ان کی ذہنی کیفیت کو پھر سے متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news شہزادہ جارج شہزادی کیٹ مڈلٹن ویلز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہزادی کیٹ مڈلٹن ویلز

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ