چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان (ایس سی پی) کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ملاقات کی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے چیمبر میں وفاقی وزیر قانون نے چیف جسٹس سے ملاقات کی، اس موقع پر اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہم صوبائی خود مختاری کو فوقیت اور عزت دیتے ہیں، لاء اینڈ آرڈر صوبائی معاملہ ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر سپریم کورٹ جج بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران جوڈیشل کمیشن کے کل کے اجلاس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججزکی تقرری کےلیےکل جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ چیف جسٹس
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔