اسلام آباد:

سابق  وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مذاکرات  کا پراسس ختم نہیں ہو گا دوبارہ شروع ہو جائے گا، موجودہ صورتحال میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کی ضرورت ہے اور اگر عمران خان اس میں شرکت نہیں کرے تو پھر یہ بھی بے کار ہوگی۔

سابق  وفاقی وزیر اور سینئر سیاستدان فواد چوہدری نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات  کا پراسس دوبارہ شروع ہو جائے گا اور یہ ختم نہیں ہوگا، جب بانی پی ٹی آئی سے مذاکراتی کمیٹی  ملاقات ہی نہیں کر سکتی تو کیا  مذاکرات کرے؟

ان کا کہنا تھا کہ فیصلے تو بانی پی ٹی آئی نے ہی کرنے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اسپیس ہی نہیں دی جا رہی، ہمیں غیر سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، جس میں سب شامل ہوں، اصل اسٹیک ہولڈر شامل ہی نہیں ہے، کوئی بھی جماعت اتنی طاقتور نہیں کہ دوسری جماعت کو ایک حد سے زیادہ نیچا دکھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے پاوں سے آگے دیکھنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ میری بانی پی ٹی آئی سے  ملاقاتیں  ہوئیں تھیں ان کو دیکھ کر میں  یہی کہوں گا کہ بانی پی ٹی آئی نے ڈیل نہیں کرنی، مجھے یقین ہے  کہ بانی پی ٹی آئی اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے  وہ  بالکل خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت سے بانی پی ٹی آئی مینج نہیں ہو رہے، کیسز بے شک  چلتے رہیں لیکن  انصاف کیا جائے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ 2016 میں مسلم لیگ ن لے کر آئی، ہم  تو پی ایم ڈی اے  لے کر آئے تھے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیں ،جو کچھ کیا جا رہا اس سے لگتا کہ ان کو سمجھ ہی نہیں کہ میڈیا کیسے چلایا جا تا ہے۔

 سینئر سیاستدان فواد چوہدری  کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی  گرینڈ اپوزیشن الائنس بنا لیتی ہے تو حکومت کو خطرات ہیں، حکومت بہت  کمزور ہے، درمیانہ احتجاج بھی حکومت  کو غیر مستحکم کر دے گا۔  اپوزیشن الائنس بننے میں  کم از کم 6 مہینے  کی تاخیر ہو چکی ہے۔ موجودہ صورتحال میں  ایک اے پی سی کی ضرورت ہے اور بانی پی ٹی آئی اس اے پی سی میں نہیں ہوتے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

شاہ محمود قریشی  جیسے لوگ مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، مجھے نہیں  سمجھ آتی شاہ محمود  قریشی کیوں جیل میں ہیں؟۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم سیاسی استحکام سے  نقصان پاکستان کا ہوتا ہے،  ملک میں مستقل عدم استحکام ہے ،کرم میں  اور  بلوچستان میں جو ہوا وہاں اسٹیٹ کی رٹ تو ختم ہو گئی ناں۔

فواد چوہدری  نے کہا کہ  معیشت استحکام  کے لیے  طویل المدتی  پالیسی چاہیے، راتوں رات پاکستان کی معیشت نہیں سنبھلے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی فواد چوہدری ہی نہیں نہیں ہو نے کہا

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع