ایم ٹیگ کے بنا موٹروے پر سفر کرنے والوں پر اضافی ٹیکس عائد
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ یکم فروری 2025ء ) ایم ٹیگ کے بنا موٹروے پر سفر کرنے والوں پر اضافی ٹیکس عائد، ملک بھر کی موٹرویز پر یکم فروری سے ایم ٹیگ کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا، ایم ٹیگ کا استعمال نہ کرنے والوں کو اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق موٹروے اینڈ ہائی وے پولیس کی جانب سے ملک بھر کی موٹرویز پر سفر کرنے والوں کیلئے اہم ہدایت جاری کی گئی ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے فیصلے کے تحت ملک بھر کی تمام موٹرویز پر یکم فروری 2025 سے 100 فیصد ایم ٹیگ پالیسی کو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ متعدد اعلانات کے باوجود اگر موٹروے پر سفر کرنے والی کوئی گاڑی یکم فروری کے بعد بھی ایم ٹیگ کا استعمال نہیں کرتی، تو اس گاڑی والے کو اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔(جاری ہے)
کم بیلنس اور کیش ٹول والی گاڑیوں سے مجموعی ٹیکس کا 25 فیصد اضافی وصول کیا جائے گا ۔ جس گاڑی پر ایم ٹیگ نہیں ہو گا، اسے کم از کم 50 روپے اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ 2021 میں پہلی مرتبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے موٹرویز پر سفر کیلئے ایم ٹیگ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ تاہم اب یکم فروری 2025 سے اس فیصلے کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرنے والوں موٹرویز پر یکم فروری دیا گیا ہائی وے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔