پیکا جیسے قوانین سے ملک کو شمالی کوریا بنا دیا گیا، حافظ حمد ﷲ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں جے یو آئی ف کے رہنماء کا کہنا تھا کہ آج کی حکومتی پارٹیاں پی پی پی اور مسلم لیگ نون اپوزیشن میں پیکا قانون کو سیاہ قانون کہا کرتی تھیں، کیا یہ کھلا تضاد، دوغلاپن اور رنگ برنگی نہیں ہے۔؟ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام ف کے رہنماء حافظ حمدﷲ نے کہا ہے کہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین بنانے سے پاکستان کو شمالی کوریا بنا دیا گیا۔ حافظ حمدﷲ کا کہنا تھا کہ صدر زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن کو پیکا قانون پر دستخط نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن اگلے روز دستخط کر دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایک اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیت کا یہ رویہ مناسب ہے۔؟ حافظ حمد ﷲ کا مزید کہنا تھا کہ آج کی حکومتی پارٹیاں پی پی پی اور مسلم لیگ نون اپوزیشن میں پیکا قانون کو سیاہ قانون کہا کرتی تھیں، کیا یہ کھلا تضاد، دوغلاپن اور رنگ برنگی نہیں ہے۔؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔