Jasarat News:
2026-07-24@01:56:33 GMT

سکھر ،پاکستان لٹریچر فیسٹیول دوبارہ منعقد ہونے جارہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

سکھر (نمائندہ جسارت )آئی بی اے یونیورسٹی میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023ء سکھر چیپٹر کی شاندار کامیابی کے بعد، پاکستان لٹریچر فیسٹیول (PLF) 25-26 فروری 2025 ء کو سکھر میں دوبارہ منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ فیسٹیول پاکستان آرٹس کونسل کراچی کی تنظیم میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد ہوگا، اور اس کا مقصد سندھ کی ادبی اور ثقافتی منظر کو مزید بڑھانا اور اس خطے کی نرم تصویر کو تقویت دینا ہے۔ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023ء – سکھر چیپٹر ایک سنگ میل ثابت ہوا جس نے سندھ بھر سے ہزاروں لکھاریوں، شاعروں، اسکالرز، طلبا ، اور خاندانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ دو دنوں میں ہونے والے اس فیسٹیول میں فکری بحثوں، مشاعروں، تھیٹر کی پرفارمنس اور ثقافتی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا، جس کے ذریعے پاکستان کی ادبی ورثے کی گہرائی اور تنوع کا جشن منایا گیا۔ طلبہ ، خاندانوں اور اداروں کی جوش و خروش سے شرکت نے اس فیسٹیول کو فکری حرارت کا نمونہ بنا دیا۔ یہ تعاون پروفیسر ڈاکٹر آصف احمد شیخ، وائس چانسلر سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کی بصیرت کا نتیجہ ہے، جو تعلیم، فکری ترقی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے یونیورسٹی کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر آصف نے پاکستان آرٹس کونسل کراچی کے صدر، محمد احمد شاہ (HI, SI) کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس قسم کے ادبی اور ثقافتی پروگرامز کے انعقاد میں مدد فراہم کی۔ ان کی کوششوں کے ذریعے یونیورسٹی سکھر کے ثقافتی منظرنامے کو مزید مالا مال کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جو نوجوان نسل کو فکری تحریک دینے اور علاقے کے علمی اور فنونِ لطیفہ کے ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے گزشتہ ایڈیشن کی کامیابی نے سکھر کو سندھ میں ادبی اور ثقافتی مکالمے کا مرکز بنا دیا ہے۔ 2025 ء کے ایڈیشن کی آمد کے ساتھ، یہ فیسٹیول نئے لکھاریوں، فنکاروں، اور فکروں کو متاثر کرنے کے لیے تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور ثقافتی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا