ٹرمپ نے میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف محصولات کے نفاذ پر عمل درآمد30 دن کے لیے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 فروری ۔2025 )صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف محصولات کے نفاذ پر عمل درآمد30 دن کے لیے روک دیا ہے جب امریکہ کے دونوں پڑوسیوں نے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد اور غیر قانونی منشیات پر قابو پانے کے لیے سرحد پر حفاظتی کوششوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا.
(جاری ہے)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کے بعد کینیڈا پر بھی اضافی ٹیرف نافذ کرنے کے لئے اپنے فیصلے کو ایک ماہ کے لیے روک دیا ہے اور بتایا ہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکہ کے اندر اسمگلنگ اور دیگر جرائم روکنے کے لیے سرحدوں کو محفوظ بنانے پر اتفاق کر لیا ہے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بارڈر سکیورٹی کو بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی، ہیلی کاپٹرز اور دس ہزار کے عملے کے ذریعے نگرانی کے 1.3 ارب ڈالر کے منصوبے پر عمل کریں گے اس کے علاوہ کینیڈا فینٹینیل نامی ڈرگ کی امریکہ کے اندر اسمگلنگ روکنے کے لے عہدیدار متعین کرے گا.
دوسری جانب امریکہ کینیڈا کو جرائم پیشہ گروہوں اور دہشت گردوں کی فہرست فراہم کرے گاامریکہ اور کینیڈا مشترکہ اسٹرائیک فورس کے ذریعے سرحد پر جرائم اور فینٹینیل اسمگلنگ سے لڑیں گے فینٹینیل کی اپنے ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے امریکہ بھی 200 ملین ڈالر سے مدد کرے گاصدر ٹرمپ نے ” ٹروتھ سوشل“ پر اپنی پوسٹ میں اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھاکہ بطور صدر میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام امریکیوں کی سلامتی کو یقینی بناﺅں. صدرٹرمپ نے کہا کہ میں اس ابتدائی نتیجے سے بہت خوش ہوں اور جس ٹیرف کا اعلان ہفتے کے روز کیا تھا اس کے نفاذ کو 30 دن کے لیے روک رہا ہوں چاہے کینیڈا کے ساتھ کوئی حتمی معاشی معاہدہ ہو یا نہ ہو یہ سب کے لیے اچھا ہے ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہدایت کی تھی کہ دو نوں امریکی شراکت داروں کی زیادہ تر درآمدات پر 25 فیصد اور کینیڈا کی توانائی کی مصنوعات پر 10فیصدمحصولات لاگو کر دیے جائیں گے اس کے بعد میکسیکو اور کینیڈا نے بھی اپنے ملکوں کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی دی جس سے وسیع تر علاقائی کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے. ایکس پر ایک بیان میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت میں سرحدی سلامتی پر اضافی تعاون کا وعدہ کیا ہے ٹروڈو نے کہا کہ مجوزہ ٹیرف کو کم از کم 30 دنوں کے لیے اس وقت تک روک دیا جائے گا جب ہم مل کر کام کریں گے اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو پر بھی نئے محصولات کے نفاذ کو ایک ماہ کے لیے روک دیا تھا میکسیکو نے اپنی شمالی سرحد پر نیشنل گارڈز کے دس ہزار ارکان تعینات کرنے پر اتفاق کیاہے تاکہ غیر قانونی منشیات خاص طور پر فینٹینیل میں استعمال ہونے والے اجزا کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے. میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے” ایکس“ پر کہا کہ اس میں امریکہ سے میکسیکو کے اندر طاقتور امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے کا امریکی عزم بھی شامل ہے دونوں راہنماﺅں نے میکسیکو، چین اور کینیڈا پر امریکی ٹیرف کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل پیر کو فون پر بات کی تھی .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹرمپ نے میکسیکو اور کینیڈا کینیڈا کے کے نفاذ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔