سندھ پولیس میں بھرتی کے خواہشتمند افراد کے لیے اچھی خبر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیا النجار نے سندھ پولیس میں بھرتی کے خواہشمند افراد کو خوشخبری سنادی۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا النجار کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس میں 50 ہزار نئے اہلکار بھرتی کرنے جارہے ہیں، لاڑکانہ میں ون فائیو کی جگہ ذوالفقار فورس بنائی جارہی ہے جنہیں 50 موٹر سائیکلیں بھی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں واضح کمی آئی ہے، بالائی سندھ کے حوالے سے احکامات دے چکا ہوں جلد تبدیلی نظر آئے گی۔ضیا النجار نے کہا کہ شکارپور سے کندھ کوٹ اور سی پیک روڈ گھوٹکی پر دن رات ٹریفک کی روانی جاری ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ لاڑکانہ آنے کا مقصد امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا، ایس ایس پیز کو کہہ دیا ہے ان کے معاملات میں سیاسی مداخلت نہیں ہوگی جن کے پاس غیرضروری پولیس اہلکار ہیں وہ واپس لیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کچے کے اضلاع کو مزید فنڈز فراہمی کا پلان ہے، ڈاکوؤں کو مارا جائے، گرفتار کیا جائے تو وہ بھی تخریبی کارروائیاں تیز کرتے ہیں۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ہم کچے کے ڈاکوؤں سے گھبرانے والے نہیں، ایک ماہ میں ہائی وے پولیس کو شروع کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔