کراچی:

سندھ میں سرکاری اسکولوں میں مفت کھانے کی تقسیم کے حکومتی منصوبے یوں تو بہت پرانے ہیں لیکن ان منصوبوں پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوسکا تھا تاہم اب کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ اور فیڈرل بی ایریا کے سنگم پر قائم علامہ اقبال گورنمنٹ بوائز اینڈ گرلز پرائمری اینڈ سیکنڈری اسکول میں یہ خواب ایک مخیر ادارے کے تعاون سے پورا ہوگیا ہے۔

اسکول پرنسپل کا دعویٰ ہے کہ جب سے یہ اسکول حکومت سندھ کی جانب سے ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی عادل عسکری کے حوالے کیا گیا ہے یہاں طلباء و طالبات کو صبح کے اوقات میں تدریسی وقفے میں روزانہ کی بنیاد پرکھانا مفت فراہم کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اسکول میں رورانہ بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے اور ان کے ذائقے بھی تبدیل ہوتے ہیں چکن رول، بریانی، نہاری ، کباب اور کبھی دال چول کھانے کا مینیو ہوتا ہے کبھی دستر خوان لگتا ہے تو کبھی قطار لگا کر کھانا تقسیم کردیا جاتا ہے ۔

واضح رہے کہ سرکاری اسکول میں کھانے کی مفت تقسیم کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے بھی اپریل سے شروع ہونے والے نئے تعلیم سیشن میں کچھ مخصوص اسکولوں میں دوپہر کے کھانے یا لنچ بکس کی تقسیم کا اعلان کیا ہے۔

ادھر  "ایکسپریس" نے جب منگل کی صبح اسکول کا دورہ کیا تو اس موقع پر طلباء و طالبات میں چکن رول تقسیم کیے جارہے تھے اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔

ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ روز گھر جاکر بتاتی ہے کہ آج اسکول سے کیا کھا کر آئی ہے ایک اور طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ روز اسکول آتی ہے اور اسی اسکول سے اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ صبح کی شفٹ میں اس اسکول کی انرولمنٹ 1900 کے لگھ بھگ ہے یہ کیمپس اسکول ہے جہاں بیک وقت 11 سرکاری اسکولوں کی کلاسز ہوتی ہیں۔

 اسکول پرنسپل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بہت سے طلبہ جو اسکول میں ریگولر نہیں تھے اب کھانے کی مفت تقسیم کے بعد سے روز اسکول آنے لگے ہیں بہت سے غریب گھرانوں میں غربت کے سبب غذائی قلت ہوتی ہے اور بچے بھی والدین کے ہمراہ محنت مزدوری کرتے ہیں تاہم اب کئی گھرانے یہاں اپنے بچوں کو اس لیے بھیج رہے ہیں کہ ان کے بچے تدریسی اوقات میں تعلیم بھی حاصل کریں گے اور کھانا بھی کھا لیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرکاری اسکول اسکول میں کھانے کی

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ