کراچی کے سرکاری اسکول میں مفت کھانے کی تقسیم، طلبہ کی حاضری میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
کراچی:
سندھ میں سرکاری اسکولوں میں مفت کھانے کی تقسیم کے حکومتی منصوبے یوں تو بہت پرانے ہیں لیکن ان منصوبوں پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوسکا تھا تاہم اب کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ اور فیڈرل بی ایریا کے سنگم پر قائم علامہ اقبال گورنمنٹ بوائز اینڈ گرلز پرائمری اینڈ سیکنڈری اسکول میں یہ خواب ایک مخیر ادارے کے تعاون سے پورا ہوگیا ہے۔
اسکول پرنسپل کا دعویٰ ہے کہ جب سے یہ اسکول حکومت سندھ کی جانب سے ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی عادل عسکری کے حوالے کیا گیا ہے یہاں طلباء و طالبات کو صبح کے اوقات میں تدریسی وقفے میں روزانہ کی بنیاد پرکھانا مفت فراہم کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اسکول میں رورانہ بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے اور ان کے ذائقے بھی تبدیل ہوتے ہیں چکن رول، بریانی، نہاری ، کباب اور کبھی دال چول کھانے کا مینیو ہوتا ہے کبھی دستر خوان لگتا ہے تو کبھی قطار لگا کر کھانا تقسیم کردیا جاتا ہے ۔
واضح رہے کہ سرکاری اسکول میں کھانے کی مفت تقسیم کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے بھی اپریل سے شروع ہونے والے نئے تعلیم سیشن میں کچھ مخصوص اسکولوں میں دوپہر کے کھانے یا لنچ بکس کی تقسیم کا اعلان کیا ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے جب منگل کی صبح اسکول کا دورہ کیا تو اس موقع پر طلباء و طالبات میں چکن رول تقسیم کیے جارہے تھے اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔
ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ روز گھر جاکر بتاتی ہے کہ آج اسکول سے کیا کھا کر آئی ہے ایک اور طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ روز اسکول آتی ہے اور اسی اسکول سے اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ صبح کی شفٹ میں اس اسکول کی انرولمنٹ 1900 کے لگھ بھگ ہے یہ کیمپس اسکول ہے جہاں بیک وقت 11 سرکاری اسکولوں کی کلاسز ہوتی ہیں۔
اسکول پرنسپل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بہت سے طلبہ جو اسکول میں ریگولر نہیں تھے اب کھانے کی مفت تقسیم کے بعد سے روز اسکول آنے لگے ہیں بہت سے غریب گھرانوں میں غربت کے سبب غذائی قلت ہوتی ہے اور بچے بھی والدین کے ہمراہ محنت مزدوری کرتے ہیں تاہم اب کئی گھرانے یہاں اپنے بچوں کو اس لیے بھیج رہے ہیں کہ ان کے بچے تدریسی اوقات میں تعلیم بھی حاصل کریں گے اور کھانا بھی کھا لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرکاری اسکول اسکول میں کھانے کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔