دل ایک پر ہی آتا ہے اور بابر اعظم پر کرش ہے، اداکارہ دعا زہرہ کا بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
سوشل میڈیا انفلوئنسر اور اداکارہ دعا زہرہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کرکٹ بہت پسند ہے ان کا کہنا ہے کہ دل ایک پر ہی آتا ہے اور بابر اعظم پر کرش ہے۔
ڈرامہ سیریل "دوریاں" اور "بےرنگ" میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی دعا زہرہ نے حال ہی میں پروگرام "دی نائٹ شو ود ایاز سموں" میں شرکت کی، جہاں انہوں نے شادی، کرکٹ اور اپنے کرش سمیت مختلف موضوعات پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال سنگل ہیں اور اس میں خوش ہیں، کیونکہ وہ "ڈائریکٹ نکاح" پر یقین رکھتی ہیں۔ اپنے ممکنہ شریکِ حیات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا شخص چاہتی ہیں جو ان کے ساتھ ایماندار ہو، جھوٹ نہ بولے اور کچھ نہ چھپائے۔
مالی حیثیت کے حوالے سے دعا زہرہ نے واضح کیا کہ "اگر وہ ایک جوڑے میں لے جائے گا تو میں کما لوں گی"۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ لڑکا امیر ہو یا نہیں، بس وہ ان کے ساتھ اچھا لگے اور مخلص ہو۔
سوشل میڈیا اور اداکاری کے فرق پر بات کرتے ہوئے دعا زہرہ نے کہا کہ "سوشل میڈیا انفلوئنسر بننے کے لیے سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے، لائٹس سیٹ کرنی ہوتی ہیں، لیکن ڈراموں میں سب کچھ پہلے سے موجود ہوتا ہے، بس ڈائیلاگ بولنے ہوتے ہیں"۔
آخر میں انہوں نے اپنی سب سے بڑی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میری دعا ہے کہ میں اپنی والدہ کی تمام خواہشات پوری کر سکوں"۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔