رے پبلک اسکول میں طلبہ کے اعزاز میں تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) رے پبلک ہائی اسکول ٹنڈوجام میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں سالانہ تقریبِ اسناد مقامی ہال میں منعقد کی گئی جس میں تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، اساتذہ، والدین، اور طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز حیدرآباد ریجن سید نوید شاہ تھے جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر پرائیویٹ کالجز حیدرآباد ریجن پیر غلام رسول شاہ، پرائیویٹ اسکول اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر نجیب میمن، سابق ڈائریکٹر پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز حیدرآباد ریجن پروفیسر انور قریشی، ڈپٹی ڈائریکٹر اسپیشل ایجوکیشن میرپور خاص پیر راحیل حسین، یوسی چیئرمین دانش صابر قائم خانی، سینئر استاد منظور میمن، رے پبلک ہائی اسکول کے پرنسپل انجینئر احسن حمید اور حسین کلہوڑو شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔