مریم نواز نے دیگر صوبوں کے طلبہ کیلئے ہونہار سکالر شپ سکیم کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ دیگر صوبوں کے طلبہ کا بھی حق ہے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کے طلبہ بھی ہمارے بچے ہیں، میرٹ پر آنیوالا ہر بچہ اچھے کالج میں اپلائی کرے فیس ہم دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دیگر صوبوں کے طلبہ کیلئے ہونہار سکالر شپ سکیم کی منظوری دیدی، دیگر صوبوں کے طلبہ کیلئے بھی پنجاب کی طرح اہلیت کا یکساں معیار مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ کی تعداد بڑھا کر ایک لاکھ 10 ہزار کر دی، وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں سیکنڈ ائیر، تھرڈ ائیر اور فورتھ ائیر کیلئے ہونہار سکالرشپ کی باضابطہ منظوری دیدی، وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہونہار سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم کے طلبہ کیلئےخصوصی ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں لیپ ٹاپ حاصل کرنے کیلئے کم از کم 65 فیصد اہلیت مقرر کی گئی ہے۔
ہونہار سکالرشپ اور لیپ ٹاپ ہر بچے کا حق اور حکومت کی ذمہ داری ہے، تعلیم اور یوتھ قوم کی حقیقی انویسٹمنٹ ہے، دل چاہتا ہے ہر بچے کو لیپ ٹاپ ملے۔ مریم نواز نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ دیگر صوبوں کے طلبہ کا بھی حق ہے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کے طلبہ بھی ہمارے بچے ہیں، میرٹ پر آنیوالا ہر بچہ اچھے کالج میں اپلائی کرے فیس ہم دیں گے، ماں کی طرح سوچتی ہوں، ہر بچے کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہونہار سکالر شپ کیلئے جو پنجاب کا معیار ہے وہی دیگر صوبوں کے طلبہ کیلئے مقرر کیا جائے گا، طلبہ کیلئے کسی بھی سکیم میں فنڈز کی فراہمی رکاوٹ بننے نہیں دی جائیگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دیگر صوبوں کے طلبہ کیلئے ہونہار سکالرشپ مریم نواز نے لیپ ٹاپ
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔