Express News:
2026-06-02@23:19:48 GMT

سابق ریال میڈرڈ اسٹار کا فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT

اسپینش فٹبال کلب ریال میڈرڈ کے سابق لیفٹ بیک مارسیلو نے پروفیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

برازیل سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ مارسیلو نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ 18 برس کی عمر میں ریال میڈرڈ نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہ وہاں آگئے۔ اب وہ فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک سچے ’میڈریلینو‘ ہیں۔ یہ سفر کیا خوب رہا۔ ریال میڈرڈ ایک منفرد کلب ہے۔

سابق ریال میڈرڈ اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مارسیلو کے کیریئر کو زبردست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے بہت عرصہ ساتھ گزارا اور اس دوران کئی کامیابیاں، فتوحات اور ناقابلِ فراموش یادیں حاصل کیں۔

واضح رہے مارسیلو اور ریال میڈرڈ کا ساتھ 16 برس تک رہا اور اس دوران کلب نے چھ بار لا لیگا ٹائٹل اور پانچ بار چیمپئنز لیگ ٹرافی جیتی۔

دوسری جانب مارسیلو نے 58 بار برازیل کی نمائندگی جس میں 2014 اور 2018 کا ورلڈ کپ شامل ہے۔ وہ 2013 میں کنفیڈریشنز کپ کی فاتح ٹیم کا حصہ بھی تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان