چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے پہلے 100 دن، زیر التوا 3 ہزار مقدمات کی بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے پہلے 100 دن، سپریم کورٹ کے زیر التوا مقدمات میں تین ہزار کی بڑی کمی واقع ہوئی۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز نے اعلامیہ کے حوالے سے بتایا کہ سپریم کورٹ نے 8 ہزار 174 مقدمات کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ میں 4 ہزار 963 نئے مقدمات کا اندراج ہوا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے دو میٹنگز میں ججز کیخلاف 46 شکایات کا جائزہ لیا، جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 40 شکایات کو نمٹایا۔
اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کونسل نے 5 شکایات پر 5 ججز سے ابتدائی جواب مانگا، جج کیخلاف ایک شکایت پر مزید تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
شمالی وزیرستان :سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 3 خوارج جہنم واصل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔