ایف آئی اے کی کارروائی، شہریوں کو سمندری راستے یورپ بھیجوانے میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کے دوران سمندر کے راستے معصوم شہریوں کو یورپ بھجوانے میں ملوث نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ سینیگال سے براستہ ایتھوپیا کراچی پہنچنے والے مسافر سے پوچھ گچھ کی گئی، جن کی شناخت عثمان عمر کے نام سے ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مسافر ایتھوپین ایئرلائن کی پرواز ET-694 کے ذریعے سینیگال سے ایتھوپیا کے راستے کراچی پہنچا تھا اور ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافر گزشتہ سال لاہور ائرپورٹ سے وزٹ ویزے پر سینیگال گیا تھا۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجزمیں داخلے ؛ پہلی سلیکشن فہرست جاری
انہوں نے کہا کہ مسافر یورپ جانے کے لیے چوہدری تیمور نامی انسانی اسمگلر سے رابطے میں تھا، مذکورہ ایجنٹ نے مسافر کو 25 لاکھ روپے کے عوض اسپین پہنچانے کا وعدہ کیا اور سینیگال پہنچنے پر مسافر کے والد نے ایجنٹ کو 25 لاکھ روپے ادا کیے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایجنٹ نے مسافر کو بائی ائیر قانونی طور پر اسپین بھجوانے کا وعدہ کیا تھا لیکن سینیگال پہنچنے پر ایجنٹ نے مسافر کا پاسپورٹ ضبط کر لیا، ایجنٹ نے سمندر کے راستے شہری کو یورپ بھجوانے کی کوشش کی تاہم مسافر نے انکار کیا۔
پی ٹی آئی کا لاہور جلسے کی اجازت نہ ملنے پر پلان بی سامنے آگیا
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ایجنٹ نے مسافر کے پاسپورٹ پر جعلی اسٹیمپ لگا کر غیر قانونی طریقے سے یورپ بھیجنے کی کوشش کی تاہم ناکام رہا اور مسافر کو سینیگال میں 4 ماہ تک سیف ہاؤسز میں رکھا گیا جہاں مزید 13 پاکستانی بھی موجود تھے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر نے بعد ازاں وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور تفتیش کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ سید ضمیر شاہ نامی ایجنٹ ترکی میں غیر قانونی سفر کے انتظامات کرتا ہےجبکہ حاجی مرزا احسن بیگ موریطانیہ کی سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
دنیا کی سب سے لمبی کار، 70 سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش
ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے بتایا کہ مسافر سے مزید تفتیش جاری ہے اور غیر قانونی سفری دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے اور ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے اور شہریوں سے اپیل کی کہ ایجنٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور بیرون ملک سفر کے لیے قانونی راستے اختیار کریں۔
پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت نہ ملنے کا امکان
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور ایجنٹ نے مسافر نے بتایا کہ ایف آئی اے
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس