ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ملک خاص طور پر کانگریس کی قیادت میں انڈیا الائنس کشمیر میں دو بے گناہ شہریوں کے قتل پر یکساں طور پر فکرمند ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے روز دو الگ الگ واقعات میں دو کشمیری شہریوں کی ہلاکت کی انکوائری کا حکم دے گی۔ دو الگ الگ واقعات میں جموں کے بلاور کے ماکھن دین اور بارہمولہ کے وسیم احمد ملا سمیت دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ماکھن دین سے جموں و کشمیر پولیس نے عسکریت پسندوں کے اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) ہونے کے بارے میں پوچھ تاچھ کی تھی اس کے بعد وہ کٹھوعہ ضلع کے بلاور کے علاقے پیروڈی میں گھر پر مردہ پایا گیا۔ جبکہ وسیم ملا کو شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں بھارتی فورسز کی طرف سے قائم کردہ چوکی کو مبینہ طور پر کراس کرنے پر فائرنگ میں مارا گیا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ان معاملات کو مودی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت دونوں واقعات کی انکوائری کا حکم دے گی۔

مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مرکزی وزارت داخلہ پولیس اور امن عامہ کو کنٹرول کرتی ہے، اس لئے یہ منتخب حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے اور اسے براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے زیر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا "میں نے بلاور میں پولیس کی حراست میں مکھن دین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور ہراساں کیے جانے کی رپورٹیں دیکھی ہیں جس کی وجہ سے خودکشی تک بات پہنچ گئی اور وسیم احمد ملا کی موت، فوج کی گولی سے ایسے حالات میں ہوئی جو پوری طرح واضح نہیں ہیں"۔ عمر عبداللہ نے ان دونوں واقعات کو انتہائی بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔

اس دوران جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ انہوں نے وقت مانگا تھا لیکن انہیں پارلیمنٹ میں ان مسائل کو اٹھانے کا وقت نہیں دیا گیا۔ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ امریکہ میں ہندوستانی شہریوں کو ہتھکڑیاں لگانے اور ملک بدر کرنے کے بارے میں پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں سمیت پورے ملک کو تشویش ہے، ایسا ہونا بھی چاہیئے۔ ہندوستان کے وزیر داخلہ کے ذریعہ دہلی میں کشمیر کی سکیورٹی کا جائزہ لئے جانے کے فوراً بعد جموں اور کشمیر میں دو شہری گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔

ایک دن پہلے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر سے دہشت گردی کا صفایا کرنے کے لئے بھارتی فورسز کو سخت طریقہ کار اپنانے کی اجازت دی تھی۔ سید روح اللہ مہدی کے مطابق اطلاعات کے مطابق ایک کو حراست میں تشدد سے اور دوسرے کو سڑک پر اس کے سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا کیونکہ وہ ایک چوکی پر نہیں رکا۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ملک خاص طور پر کانگریس کی قیادت میں انڈیا الائنس جموں و کشمیر میں دو بے گناہ شہریوں کے قتل پر یکساں طور پر فکرمند ہوگا اور ان ہلاکتوں میں ملوث سیکورٹی اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ کرے گا۔ اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر رویندر رینہ نے دونوں معاملات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قصوروار پائے جانے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید روح اللہ عمر عبداللہ نے کہا کہ اللہ نے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد