کانگریس اور انڈیا الائنس دفعہ 370 کی بحالی پر بات کریں، وحید الرحمن پرہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
پی ڈی پی کے سینیئر لیڈر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ یہاں پر بے روزگاری کو ختم کی جائیگی، تاہم اسکے برعکس یہاں کے قدرتی وسائل، روزگار اور دیگر چیزوں کو لوٹا جارہا ہے جسکے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے جموں کشمیر کے دیگر اضلاع کی طرح جنوبی کشمیر کے پلوامہ پلوامہ ضلع میں بھی پارٹی کے 26ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں پروگرام منعقد کیا۔ پلوامہ میں منعقدہ اجلاس میں پارٹی کے مقامی کارکنان کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی کے سینیئر لیڈر اور ایم ایل اے پلوامہ وحید الرحمن پرہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے حاشیے پر وحید الرحمن پرہ نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی نوکریاں اور زمین کے حقوق جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے محفوظ رکھے جانے چاہیے اور ان کی حفاظت کے لئے سبھی پارٹیز نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور عوام سے ان کے تحفظ کے وعدے کئے۔ وحید الرحمن پرہ نے کہا کہ ان وعدوں پر ہی نیشنل کانفرنس کو بھاری اکثریت ملی، جس کا مطلب ہے کہ عوام نے نیشنل کانفرنس پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا تھا۔
وحید الرحمن پرہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ یہاں پر بے روزگاری کو ختم کی جائے گی، تاہم اس کے برعکس یہاں کے قدرتی وسائل، روزگار اور دیگر چیزوں کو لوٹا جا رہا ہے جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایم ایل اے پلوامہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی یہاں کے قدرتی وسائل اور نوکریوں کو صرف جموں و کشمیر کے باشندوں کے لئے محفوظ و مخصوص رکھنے کی وکالت کرتی رہی ہے تاکہ یہاں بے روزگاری کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چھینا ہوا خصوصی درجہ واپس دیا جانا چاہیئے اور کانگریس سمیت انڈیا الائنس کو 370 اور 35 اے کی بات کرنی چاہیئے۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر سے چھینی گئی حیثیت کی واپسی کے لئے پُرعزم ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وحید الرحمن پرہ نے نیشنل کانفرنس بے روزگاری نے کہا کہ کشمیر کے کے لئے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔