التجا مفتی نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انتخابات کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا، اب تو متاثرین کے اہل خانہ کو تسلی دینے کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی بیٹی التجا مفتی کے ساتھ انہیں گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے۔ التجا مفتی نے دعویٰ کیا کہ حکام نے انہیں باہر جانے سے روکنے کے لئے ان کی رہائش گاہ کے دروازے بند کر دئے ہیں۔ گیٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری ماں اور مجھے دونوں کو گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے، ہمارے دروازے بند کر دئے گئے ہیں کیونکہ وہ سوپور جانے والی تھیں جہاں وسیم میر کو فوج نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا "میں نے آج مکھن دین کے خاندان سے ملنے کے لئے کٹھوعہ جانے کا ارادہ کیا تھا اور مجھے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے"۔

التجا مفتی نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ کشمیر میں انتخابات کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا، اب تو متاثرین کے اہل خانہ کو تسلی دینے کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے پی ڈی پی کے لیڈروں کی گھر نظربندی کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ تازہ پیش رفت جموں و کشمیر میں دو شہریوں کی موت کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس واقعے پر سیاستدانوں نے بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ بارہمولہ ضلع کے سوپور میں ایک شہری ٹرک ڈرائیور وسیم میر کو جمعرات کو فوج نے ایک چوکی پر روکنے میں ناکامی کے بعد گولی مار دی۔ اسی طرح جموں کے کٹھوعہ ضلع میں مبینہ طور پر پولیس میں تشدد کے بعد ایک اور شہری مکھن دین مشتبہ حالات میں مردہ پایا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مفتی نے کے بعد

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟