لڑکی کی محبت میں پاکستان آنیوالے بھارتی شہری بابو بادل نے وطن واپسی سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
منڈ ی بہاء الدین(ویب ڈیسک )لڑکی کی محبت میں غیرقانونی طور پر پاکستان آنیوالے بھارتی نوجوان نے واپس جانے سے انکار کر دیا ۔
منڈی بہاءالدین کی جیل میں قید بھارتی نوجوان بادل بابو نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ پاکستان میں رہنا چاہتا ہے اور واپس بھارت جانا اس کی موت کے برابر ہوگا ، اس نے اسلام قبول کر لیا ہے اگر اسے بھارت واپس بھیجا گیا تو قتل کر دیا جائے گا۔
ملزم نے عدالت میں ایک واقعہ بھی بیان کیا کہ اس کے گاؤں کا ایک لڑکا، جس نے اسلام قبول کیا تھا،اسے قتل کردیا گیا تھا اور س کی ٹکڑوں میں بٹی لاش ملی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بھارت واپس نہیں جا سکتا کیونکہ اس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے اور اسے اپنی جان کا خطرہ ہے۔
بادل بابو جو مبینہ طور پر پاکستانی لڑکی سے محبت اور شادی کیلئے غیرقانونی طور پر پاکستان آیا تھا جواس وقت منڈی بہاؤالدین کی جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہے ، گزشتہ روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ۔
بادل بابو کے وکیل فیاض رامے بتایا کہ بادل بابو کے کیس کی اگلی سماعت سے پہلے ڈی پی او کو طلب کیا ہے تاکہ وہ چارج شیٹ فائل کرنے کی تصدیق کریں۔
وکیل کے مطابق بادل بابو کو دیگر قیدیوں سے الگ گاڑی میں لایا گیا اور اس کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بادل بابو کے وکیل نے بتایا کہ وہ دو دن بعد جیل میں اس سے ملاقات کریں گے اور اس کیس کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات کریں گے۔
مریخ اور چاند کی قربت کا مسحور کن نظارہ آج رات دیکھنا مت بھولیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔