ٹرمپ کو دھچکا؛ امریکی عدالت نے ایلون مسک کو ’کام‘ سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
امریکی عدالت نے ایلون مسک کی سربراہی میں ڈی او جی ای کو حساس ڈیٹا تک رسائی سے روک دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی 19 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی جج حکومت کی کارکردگی جانچنے کے محکمے ’Doge‘ کو وزارت خزانہ کے حساس مالیاتی معلومات تک رسائی سے عارضی طور پر روک دیا۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج پال اے انگلمیئر نے حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے ایلون مسک کی ٹیم کو مالیاتی ریکارڈز کا جائزہ لینے اُن تمام نقول کو تلف کرنے کا حکم دیا گیا جو انھوں نے حاصل کی تھیں۔
عدالت نے "ناقابل تلافی نقصان" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس معلومات کے افشاء ہونے اور سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یہ فیصلہ ضروری تھا۔
یہ حکم ان ریاستوں کے خلاف دائر مقدمے کی تازہ ترین پیشرفت ہے جو یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ ٹرمپ کا DOGE کو حساس ریکارڈز تک رسائی دینے کا فیصلہ وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ایلون مسک جو DOGE کے سربراہ ہیں ان کی شہریوں کے ذاتی مالی معلومات تک رسائی دینے سے شہریوں کی پرائیویسی کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور یہ ڈیٹا کی خلاف ورزیوں کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔
اس عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ فیصلہ "بالکل پاگل" ہے۔
ایلون مسک نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ اگر حکومتی اخراجات اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے خرچوں کا جائزہ نہیں لیا جائے گا تو اخراجات میں کمی کیسے لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔