وزیراعظم کی اپنے کویتی ہم منصب سے دو طرفہ ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2025ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 11 فروری 2025 کو کویت کے وزیر اعظم شیخ احمد عبداللہ الاحمد الصباح سے دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس (WGS) کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے مابین برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا اور دوطرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
(جاری ہے)
انہوں نے پاکستان-کویت تعاون کو مزید وسعت دینے اور موجودہ تعلقات کو باہمی طور پر مفید مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کے فوری اور مکمل نفاذ اور فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کی رفتار کو بڑھانے پر زور دیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔