غزہ رئیل اسٹیٹ نہیں؛ 20 لاکھ جانوں کا معاملہ ہے؛ فرانس نے ٹرمپ کا منصوبہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے منصوبے پر شدید اعتراضات اُٹھائے ہیں۔
’’سی این این ‘‘ کو انٹرویو میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فلسطینیوں کی عزتِ نفس کے احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مزید کہا کہ آپ 20 لاکھ انسانوں کو اچانک یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب تمہیں اپنی سرزمین سے اپنے گھر بار چھوڑ کر کہیں اور جاکر بسنا ہوگا۔
ایمانوئیل میکرون نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر پھبتی کسی کہ غزہ کا معاملہ "ریئل اسٹیٹ" کا نہیں بلکہ ایک سیاسی آپریشن کا ہے۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کا مطلب یہ نہیں کہ فلسطینیوں کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی جائے۔
ایمانوئیل میکرون نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی خواہش ہے کہ وہ اپنی آبائی سرزمین پر رہیں جب کہ اردن اور مصر بھی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ ایسے میں فلسطینیوں کو اُن کے تباہ حال گھروں سے بھی بیدخل کردینا انصاف نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ فرانس نے 8 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے غزہ پر حملے کو دفاع کا حق تسلیم کرتے ہوئے حمایت کی تھی۔
تاہم فرانسیسی صدر نے اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری، بہیمانہ تشدد اور قتل عام کی پالیسیوں پر متعدد بار تنقید بھی کی تھی۔
ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کو دہراتا رہا ہوں گا کہ اس طرح کی بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں جو حقِ دفاع نہیں ہے۔
بعد ازاں فرانس نے اکتوبر 2024 میں اسرائیلی فوج کو اسلحہ کی فراہمی معطل کر دی تھی اور دوسرے ممالک سے بھی ایسا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ 4 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ امریکا غزہ کو قبضے میں لے گا اور فلسطینیوں کو ہمسایہ ممالک بشمول مصر اور اردن منتقل کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو فلسطینیوں، عربوں اور بین الاقوامی برادری نے مسترد کردیا تھا جب کہ صرف اسرائیل نے حمایت کی تھی۔
واضح رہے کہ غزہ پر 7 اکتوبر 2023 سے گزشتہ ماہ جنگ بندی تک اسرائیلی وحشیانہ بمباری میں 48 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ شہر کا انفرااسٹریکچر اور رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کی ڈونلڈ ٹرمپ کہا کہ
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔