چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کو جیل بھیجنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کو پولیس کی جانب سے انسداد دہشت گردی منتظم عدالت کے جج ذاکر حسین کے روبرو پیش کیا گیا ان کے خلاف جلاوُ گھیراوُ اور دہشتگردی کی دفعات تحت مقدمات درج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لانڈھی پولیس نے 10 ملزمان کو گرفتار کیا تھا، گرفتار ملزمان میں 2 مہاجر قومی موومنٹ کے کارکن ہیں، گرفتار کارکنان نے 21 مزید ساتھیوں کے نام بتائے ہیں، آفاق احمد کو دونوں مقدمات میں ریمانڈ کے لیےعدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
پولیس کی جانب سے عدالت میں آفاق احمد سمیت 10 کارکنوں کو پولیس کے حوالے کرنے کی استدعا کی گئی پولیس کا موقف تھا کا ملزموں سے مزید تفتیش کرنی ہے جس کے لیے انہیں پولیس کے حوالے کیا جائے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ خدشہ ہے کہ ڈمپرکے لاپتا ڈرائیوراور کنڈکٹران کی تحویل میں ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کے پاس ایسے کیا شواہد ہیں جس کی بنیاد پرریمانڈ مانگ رہےہیں، تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ 2 انسانی جانوں کا مسئلہ ہے لاکھوں روپے کی چینی کی بوریاں مسنگ ہیں۔
مزید پڑھیں:
اس موقع پر آفاق احمد کے وکیل کا کہنا تھا کہ آفاق احمد کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی ہے، جس پر جج نے کہا کہ اس درخواست کو بعد میں دیکھیں گے۔
تفتیشی افسر کے مطابق آفاق احمد کے کہنے پر ڈمپر جلائے گئے، عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی آر کس تھانےکی ہیں، سیکشن کیا ہیں؟ پہلے بتائیں یہ کیس دہشت گردی کا بنتا ہے؟ جس پر وکیل سرکار نے بتایا کہ یہ آپ کو تفتیشی افسر بتائیں گے۔
مزید پڑھیں:
جج نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کیا بتائیں گے، ان کا پیٹ بتائے گا، آفاق صاحب سامنے آئیں سنا ہےاچھا بولتےہیں، لیکن اس قوم نے آپ کی باتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے، سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پوری ڈمپربرادری ان کی وجہ سے خوف زدہ ہے، جس پر آفاق احمد کے وکیل بولے؛ خوف زدہ تو ہم ہیں لوگوں کو ڈمپر تلے کچلا جارہا ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی ریمانڈ کی استدعا خارج کرتے ہوئے آفاق احمد سمیت 10 افراد کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر مقدمات کا چالان طلب کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں:
عدالت کی جانب سے آفاق احمد کو جیل بھینے کے حکم کے بعد ان کے وکیل نے ان کی 2 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائرکردی ہے، درخواست ضمانت عوامی کالونی اور لانڈھی تھانےمیں درج مقدمات میں جمع کرائی گئی ہے، آفاق احمد کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنےکی بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آفاق احمد چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا فاق احمد چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کو تفتیشی افسر کا کہنا
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔