مجھے بھروسہ نہیں ، بھارتی ایئرچیف سرکاری طیارہ ساز ادارے پر پھٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
نئی دہلی: طیاروں کی تیاری میں تاخیر پر بھارتی فضائیہ کے سربراہ بھارت کے سرکاری طیارہ ساز ادارے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) پر پھٹ پڑے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بینگلورو میں ہونے والے ائیر شو میں شرکت کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے تیجس کی طیاری میں تاخیر پر بھارتی فضائیہ کے ائیر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے ایچ اے ایل حکام کو آڑے ہاتھوں لیا۔
واقعہ کی ویڈیو میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ آپ کو فضائیہ کے خدشات دور کرنے ہوں گے، اس وقت مجھے ایچ اے ایل پر بالکل بھروسہ نہیں ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں مزید کہا کہ مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ میں جب فروری میں یہاں آؤں گا تو مجھے 11 تیجس ایم کے ون اے طیارے تیار ملیں گے لیکن اب تک ایک بھی طیارہ تیار نہیں ہوا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارتی فضائیہ نے ایج اے ایل کو 83 تیجس ایم کے ون اے طیاروں کے لیے 364.
ایچ اے ایل نے فروری 2024 میں طیاروں کی فراہمی شروع کرنی تھی تاہم انجنوں کے حصول میں مشکلات کے باعث ان طیاروں کی فراہمی میں تاخیر ہورہی ہے۔
ایچ اے ایل کے سربراہ کاکہنا ہے کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ طیاروں کے اسٹرکچر تیار کرلیے جائیں گے اور جیسے ہی انجن دستایب ہوں گے تو طیاروں کو ائیر فورس کے حوالے کردیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ فضائیہ کے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔