بابراعظم کا موبائل فون گم ہونا "مارکیٹنگ اسٹنٹ" نکلا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
سابق کپتان پرینک کے بجائے اپنی فارم پر توجہ دیں، فینز
قومی ٹیم کے سابق کپتان بابراعظم کا موبائل گُم ہونے سے متعلق بیان مارکیٹنگ اسٹنٹ نکلا۔
بابراعظم نے اپنا موبائل کھو یا چوری ہوجانے کی اطلاع سماجی رابطے کی سائٹ انسٹاگرام پر اسٹوری کی صورت میں شیئر کی۔
انہوں نے مداحوں کو اپنے ساتھ پیش آئی پریشانی کے حوالے سے بتایا کہ میرا موبائل فون کھو گیا جس کے بعد سارے رابطے کے نمبر بھی چلے گئے ہیں تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ یہ ایک مارکیٹنگ اسٹنٹ تھا۔
بابراعظم کی پوسٹ مداحوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کرکٹر کو پریشان نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
سابق کپتان نے نجی کمپنی کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ فون مل گیا، اور آپ کی تمام پریشانیوں کو بہت سراہا جاتا ہے، انہوں نے پوسٹ پر ہنستے ہوئے ایموجی کو بھی شامل کیا۔
قومی کرکٹر کے فون اسٹنٹ پر کچھ شائقین محظوظ ہوئے جبکہ دیگر نے بابراعظم کو کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی فارم پر توجہ مرکوز کریں نا کہ ڈرامے بازیوں پر!۔
ایک صارف نے کہا کہ بابراعظم پرینک کے بجائے اپنی فارم پر توجہ دیتے تو پاکستان سہ ملکی سیریز کا پہلا میچ جیت سکتا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔