Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:28:11 GMT

تلسی گبارڈ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر مقرر

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT

تلسی گبارڈ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر مقرر

دنیا کی طاقتور ہندو خاتون تلسی گبارڈ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر بن گئیں، عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کو دوبارہ قومی سلامتی پر مرکوز کریں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ انٹیلی جنس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

تلسی گبارڈ امریکا کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی کریں گی۔

واضح رہے کہ ’کرما یوگی‘ کہلانے والی 43 سالہ تلسی امریکی کانگریس میں پہلی ہندو رکن تھیوالدین امریکی ہیں جن کا بھارت سے کوئی رسمی تعلق نہیں تاہم ان کی والدہ نے ہندو مذہب اختیار کیا۔

تُلسی گبارڈ کی پہلی شادی 2006 میں طلاق پر ختم ہوئی، دوسری شادی 2015 میں ہوئی لیکن ان کی کوئی اولاد نہیں، تلسی نے امریکی پارلیمنٹ میں بھگوت گیتا پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا، ان کے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، انہوں نےگجرات فسادات میں مودی پر امریکی ویزا پابندی کو بڑی غلطی قرار دیا تھا۔

انہوں نے 2014 میں مودی کی دعوت پر ہندوستان کا 15روزہ دورہ کیا، 2019 میں ہندوستانی حکومت کے ایونٹ کی مہمان خصوصی بنیں، تُلسی کی مہم کو ہندو اکثریتی تحریک سے وابستہ 100سے زیادہ افراد سے چندہ ملا تھا جس کا مودی کی بھارتیہ جنتہ پارٹی ایک حصہ ہیں۔

تُلسی 20 سال امریکی فوج کا حصہ رہیں، عراق و کویت اور افریقا میں بھی تعینات رہیں، 2024 میں ری پبلکن پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے انہوں نے اکتوبر 2022 میں ڈیموکریٹک پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔

بائیڈن انتظامیہ نے خفیہ دہشت گردی کی واچ لسٹ میں ڈال دیا، 2021 میں، تلسی نے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے تحفظ کے لیے امریکی کانگریس میں قرارداد پیش کی،پاکستان پر اُسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا الزام بھی عائد کیا، گبارڈ نے حافظ سعید کی رہائی پر تنقید کی۔

ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس قومی سلامتی کے امور پر صدر، قومی سلامتی کونسل اور ہوم لینڈ سکیورٹی کونسل کے مشیر کے طور پر کام کرتا ہے۔

یہ پوزیشن 11ستمبر2001 کو امریکا پر حملوں کے بعد بنائی گئی تھی، اپنے آپ کو ’کرما یوگی‘ کہلانے والی 43 سالہ تلسی امریکی کانگریس میں پہلی ہندو ہونے کے ساتھ امریکن ساموا سے تعلق رکھنے والی پہلی رکن ہیں، ان کے والدین کا تعلق امریکا سے ہے۔

1981میں پیدا ہونے والی تلسی 2013 سے 2021 تک ہوائی پارلیمنٹ کی رکن رہیں، ان کی پرورش ہوائی میں ہوئی اور اس نے اپنے بچپن کا ایک سال فلپائن میں گزارا۔ چار بار رکن پارلیمنٹ رہ چکی ہیں اور 2020 میں صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار بھی تھیں تاہم انہیں خاطر خواہ حمایت نہ مل سکی اور انہوں نے اپنی امیدواری واپس لے لی۔

2024 میں ری پبلکن پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے انہوں نے اکتوبر 2022 میں ڈیموکریٹک پارٹی کو چھوڑ دیا تھا، تُلسی نے 20 سال یو ایس آرمی نیشنل گارڈ میں خدمات انجام دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انٹیلی جنس تلسی گبارڈ انہوں نے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے