Daily Ausaf:
2026-07-24@16:02:23 GMT

ملک میں گندم نایاب ہونے والی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)راجہ تسلیم احمد کیانی کا تعلق ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ سے ہے۔ انہوں نے اپنے زرعی فارم میں 12 ایکڑ پر گندم کاشت کر رکھی ہے۔ گذشتہ تین ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ان کی 50 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے اور جو بچ گئی ہے وہ بھی اگر آئندہ چند روز میں بارشیں نہ ہوئیں تو بری طرح متاثر ہو گی۔

راجہ تسلیم احمد کیانی نے بتایا: ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی خشک سالی نہیں دیکھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گندم کی فصل سبز سے پیلی اور پھر چھوٹے چھوٹے سٹے نکالنے کے بعد خشک ہوتی جا رہی ہے۔‘

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں لیکن کسانوں کو نہ اس کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے اور نہ ہی تیار کیا گیا ہے کہ اگر وقت پر بارشیں نہیں ہوتیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔

راجہ تسلیم احمد کیانی نے بتایا کہ اس علاقے میں وہ شاید واحد کاشت کار ہیں جنہوں نے ازخود ہی ایک چھوٹا سا ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کیا ہوا ہے، جس سے ان کی پانچ ایکڑ پر لگائی گئی فصل کی بچت ہو گئی، وگرنہ ساری فصل ہی برباد ہو جاتی۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت بارانی علاقوں میں اگر کسانوں کو چھوٹے ڈیم بنانے میں سہولتیں فراہم کرے تو اس طرح سے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے فصلوں پر ہونے والے منفی اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔‘

گندم کی پیداوار میں آٹھواں بڑا ملک، مگر فی ہیکٹر پیداوار میں 56 ویں نمبر پر

پاکستان دنیا میں گندم کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں آٹھواں بڑا ملک ہے لیکن اگر بات کی جائے فی ہیکٹر پیداوار کی تو اس حوالے سے پاکستان کا دنیا میں 56 واں نمبر ہے۔ پاکستان نے پچھلے 30 سالوں میں گندم کی پیداوار میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ 1990 میں پاکستان میں گندم کی پیداوار 1.

44کروڑ ٹن تھی، جو 2011 میں ڈھائی کروڑ ٹن ہو گئی۔

اس طرح صرف 20 سالوں میں پاکستان میں گندم کی پیداوار میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے بعد کے سالوں میں پیداوار میں اضافے کا یہ تناسب برقرار نہیں رہ سکا اور 2021 تک گندم کی پیداوار 10 فیصد اضافے کے ساتھ پونے تین کروڑ ٹن رہی، جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی ہیں۔

اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کا پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 22.9 فیصد ہے جبکہ 37.4 فیصد ملازمتیں اس شعبے کی مرہون منت ہیں۔ پاکستان میں گندم کی مجموعی پیداوار میں پنجاب اور سندھ کا حصہ 90 فیصد ہے۔ پاکستان میں گندم کی کل کھپت 3.2 کروڑ ٹن ہے جبکہ پیداوار ڈھائی کروڑ سے 2.8 کروڑ ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ باقی کمی گندم کی درآمد سے پوری کی جاتی ہے۔ اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں گندم کا درآمدی بل بڑھ جائے گا۔

صرف بارانی نہیں نہری علاقہ بھی متاثر ہے

ڈاکٹر مقصود قمر نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) میں پرنسپل سائنٹیفک آفیسر ہیں اور ویٹ پروگرام لیڈر بھی ہیں۔ انہوں نے برطانوی خبررساں ادارےکو بتایا کہ اسلام آباد میں آخری بارش پچھلے سال چھ اکتوبر کو ہوئی تھی اور اس کے بعد سے مسلسل خشک سالی چل رہی ہے۔

بقول ڈاکٹر مقصود قمر: ’تقریباً یہی حال باقی بارانی علاقے کا بھی ہے، جس کا سب سے شدید اثر گندم کی فصل پر ہوا ہے۔ 15 نومبر تک گندم کی فصل ٹھیک چل رہی تھی، لیکن اس کے بعد بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصل خراب ہونا شروع ہو گئی اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بارشیں نہ ہونے سے اور مناسب نمی نہ ملنے کی وجہ سے اس کی 70 فیصد جنریشن متاثر ہو چکی ہے۔

’اس کی ذیلی شاخیں نہیں نکلیں اور جو اکیلی شاخ بنی، اس نے بھی سٹہ نکال لیا ہے، جس پر دانے کم ہوں گے اور وہ بھی بہت چھوٹے ہوں گے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بارانی علاقے میں گندم کی صورت حال کتنی تشویش ناک ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں گندم کے زیر کاشت رقبے میں 20 سے 25 فیصد بارانی ہے مگر گندم کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ 10 فیصد ہے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صرف بارانی علاقہ ہی متاثر نہیں ہو گا بلکہ نہری علاقوں میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھی گندم کی پیداوار پر فرق پڑے گا۔

’پاکستان میں اس سال گندم ویسے ہی کم رقبے پر کاشت ہوئی ہے جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ این اے آر سی سے مصدقہ بیج لینے والوں کی لائنیں لگتی تھیں مگر اس بار نہ لائن لگی، نہ کوئی سفارش آئی، بلکہ ہم کسانوں کی منتیں کرتے رہے کہ بیج لے جائیں، ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی ہم دیں گے، پھر بھی ہمارا بیج بچ گیا اور فروخت نہیں ہوا۔‘

اس سال گندم کیوں کم کاشت کی گئی؟

میاں عمیر مسعود مرکزی کسان اتحاد کے صدر ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گندم کے کاشت کاروں کو پچھلے سال ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا تھا کیونکہ ان کی گندم خریدنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے بارانی ایریا کی گندم کی فصل تباہ ہو چکی ہے اور میدانی علاقوں کی بھی شدید متاثر ہے۔‘

بقول عمیر مسعود: ’پہلے ہی گندم کی کاشت 30 فیصد کم ہوئی ہے اور بارشیں نہ ہونے کا عنصر بھی اگر اس میں شامل کر لیا جائے تو اس سال گندم کی پیداوار پچھلے سال کی نسبت 50 فیصد کم ہو گی۔ یہ عملی صورت حال ہے، جو کسان اتحاد پیش کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری بابو اپنی نوکریاں بچانے کے لیے حکومت کو گمراہ کن اعدادوشمار پیش کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے گندم کی کاشت کا 98 فیصد حاصل کر لیا ہے، جس کے ثبوت کے طور پر وہ کہہ رہے ہیں کہ اس سال 50 فیصد کھاد زیادہ فروخت ہوئی ہے، حالانکہ ہماری اطلاعات کے مطابق فیکٹریوں میں کھاد سرپلس پڑی ہوئی ہے اور خریدار نہیں مل رہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’کسان اتحاد موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہے کہ پاکستان میں گندم کا شدید بحران آنے والا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر پہلے ہی پاسکو کو غیر مؤثر کر دیا ہے، اس سال وہ بھی گندم نہیں خرید رہا جبکہ حکومت کے پاس 11 لاکھ ٹن کے ذخائر موجود ہیں، جو مارکیٹ کی ضرورت کے لیے بہت ہی کم ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گندم کی فصل میں پچھلے سال سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے اور اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے کسان کو جو نقصان ہو چکا ہے، اس کا اثر اب خریف کی فصلوں پر بھی پڑے گا کیونکہ اس کی کاشت کے لیے کسان کے پاس مطلوبہ وسائل نہیں رہے۔‘

نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کی وزارت کے ڈپٹی فوڈ سکیورٹی کمشنر ڈاکٹر محمد آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ہماری وزارت صوبوں، پاسکو اور سپارکو سے ڈیٹا حاصل کر رہی ہے کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی فصل کو کتنا نقصان ہوا ہے یا ہونے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اس حوالے سے ابھی تک ہمارے پاس ایسا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے، جس کی بنیاد پر ہم کوئی بھی بیان جاری کر سکیں، تاہم عمومی صورت حال خشک سالی کی طرف ہی لگ رہی ہے۔‘(سجاد اظہر)
مزیدپڑھیں:ڈیوٹی کے بعدسرکاری گاڑیاں استعمال کرنے والوں کی شامت آ گئی

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے میں گندم کی پیداوار پاکستان میں گندم کی پیداوار میں گندم کی فصل نے بتایا بتایا کہ انہوں نے صورت حال کروڑ ٹن ہوئی ہے کے بعد اس سال ہوا ہے ہے اور رہی ہے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی