امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں وفد شہر میں ڈمپر و ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی بڑھتی اموات پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ملاقات کر رہا ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے جمعہ کو آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ملاقات کی،کراچی میں بڑھتے ہوئے حادثات بالخصوص ڈمپرزو ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی بڑھتی ہوئی اموات ، بدترین ٹریفک جام اور ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ٹریفک حادثات
میں اس قدر بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات نہایت تشویش ناک امر ہے ، ان حادثات کا سبب بے ہنگم ٹریفک اور بے قابو ہیوی وہیکل کی شہر میں غیرقانونی آمد ورفت ہے ، ڈمپرز ، ٹینکرز اور ٹرالرز مقرر اوقات اور مقررہ راستوں سے ہٹ کر سارے شہرمیں چلتے نظر آتے ہیں ،ان کے اکثر ڈرائیورز غیر لائسنس یافتہ اور ٹریفک کے اُصولوں سے ناواقف ہیں ، حادثے میں ضمانت اور نرم سزائوں کے قانون نے ان ڈرائیو رز کو قانون کی گرفت سے بے خوف کردیا ہے ، جماعت اسلامی کے وفد میں پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر و اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ ،نائب امرا جماعت اسلامی کراچی راجا عارف سلطان اور مسلم پرویز شامل تھے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ لائسنس کے اجرا کو آسان بنایا جائے ، چنگ چی رکشائوں کو متعین جگہوں پر پارکنگ کا سختی سے پابند کیا جائے ، سڑکوں پر موجود تجاوزات ختم کی جائیں ، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو یونین کمیٹیز کے تعاون سے بہتر بنایا جائے اور ہر سطح پر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بنایا جائے ،انہوں نے آئی جی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سارے شہر میں چنگ چی اور رکشائوں کی بے ہنگم پارکنگ نے شہر میں ٹریفک جام معمول بنادیا ہے ، ایک جانب شہری صوبائی حکومت اور کے ایم سی کی نااہلی کے سبب سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سے اذیت میں مبتلا ہیں دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی لاقانونیت اور ٹریفک پولیس کی خراب کارکردگی نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ، کراچی اگر ذمے دار صوبائی حکومت اور حقیقی منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں ہوتا توشہر میں مؤثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ہوتا ،شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بہترین بسیں مہیا ہوتیں جس کا سلسلہ نعمت اللہ خان کے دور میں شروع ہوا تھا اور کراچی کے 65فیصد شہری موٹر سائیکلوں اور چنگ چی رکشائوںمیں سفر کرنے پر مجبور نہ ہوتے ، منعم ظفر خان نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک حادثات سے کسی بھی صورت میں شرپسندوں کو فائدہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے اور ان معاملات کو لسانی رنگ دینے اور مختلف طبقات میں کشیدگی کا سبب نہیں بننے دیں گے ۔ملاقات میں سیف سٹی پروجیکٹ کی جلد تکمیل پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی ، آئی جی سندھ نے اس موقع پر ٹریفک کی بہتری اور سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے پولیس کے اقدامات پر بریفنگ دی اور جماعت اسلامی کی جانب سے مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی شہریوں کی

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی