بھارت: تندور میں کوئلہ اور لکڑی استعمال کرنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں تندور استعمال کرنے والے ریستورانوں، ہوٹلوں اور ڈھابوں کو کوئلہ اور لکڑیوں کا استعمال بند کرکے گیس یا الیکٹرک چولہے استعمال کرنے کی ہدایت دے دی گئی۔ 8جولائی تک حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ، قانونی کارروائی اور لائسنس کی منسوخی جیسے نتائج کا سامنا کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے آلودگی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواستوں پر سماعت شروع کررکھی ہے ۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس نے واٹس ایپ پر مکمل پابندی کی دھمکی دے دی
روس نے عالمی سطح پر مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو مکمل طور پر بلاک کر دینے کی دھمکی دے دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روس نے ایک بار پھر واٹس ایپ پر جرائم کو روکنے میں ناکامی کا الزام دہراتے ہوئے روسی شہریوں کو متبادل اور مقامی ایپ پر منتقل ہونے پر زور دیا ہے۔
روسی مواصلاتی نگران ادارے روسکومنیڈزو کے مطابق اگر واٹس ایپ روسی قوانین کی پاسداری نہ کرے تو اسے مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا۔ صارفین کو متبادل اور ریاستی حمایت یافتہ میسجنگ ایپ ’میکس‘ پر منتقل ہونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
روس نے واٹس ایپ پر ایک بار پھر جرائم روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے شہریوں کو مقامی ایپ میکس کی جانب منتقل ہونے پر زور دیا ہے۔
روسکومنیڈزو نے کہا ’ اگر واٹس ایپ روسی قوانین کی پاسداری نہ کر سکا تو اسے مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا۔“
یہ اقدام اگست میں واٹس ایپ کالز پر عائد پابندی کا تسلسل ہے۔ ’میکس‘، جو روس کی ریاستی حمایت یافتہ میسجنگ سروس ہے، صارفین کو ریاستی خدمات سے مربوط کرنے کے لیے فروغ دی جا رہی ہے، تاہم اس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود نہیں، یعنی صارفین کی مواصلات محفوظ نہیں رہیں گی۔
واٹس ایپ کی مالک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کہا ہے کہ ’صارفین کی محفوظ مواصلاتی معلومات روسی حکومتی اداروں سے شیئر کرنے سے انکار کرنے کے بعد روس واٹس ایپ پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
روس میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام سب سے زیادہ مقبول میسجنگ سروسز ہیں۔ تاہم روسی حکومت کا مطالبہ ہے کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں اور فراڈ کی تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صارفین کے ڈیٹا تک رسائی فراہم کی جائے۔
یہ کشیدگی عالمی سطح پر پرائیویسی اور صارفین کی محفوظ مواصلات کے حقوق کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔