شوگر ملز ایسوسی ایشن کاچینی کم قیمت پر فروخت کرنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
چینی کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانا مشکل ہو گیا، شوگر ملز ایسوسی ایشن نےچینی کم قیمت پر فروخت کرنے سے انکار کر یا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،حکومت کی رمضان المبارک میں عام مارکیٹ میں چینی کی قیمت140روپے تک رکھنے کی ہدایت ہے،تمام صوبائی چیف سیکرٹریز کو اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن کو140روپے فی کلو تک عام مارکیٹ میں چینی کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چینی کی پیداواری لاگت کے مطابق چینی 170روپے میں پڑ رہی ہے، چینی کی کم قیمت پر فروخت سے شوگر ملز ایسوسی ایشن کو نقصان ہوگا۔حکومت نے چینی کی برآمد کی مشروط اجازت دی تھی، چینی کی برآمد کی اجازت قیمتیں نہ بڑھنے سے مشر و ط تھیں، رمضان میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے ،سٹالز پر چینی130روپے دستیاب ہوگی، عام مارکیٹ میں چینی140روپے فی کلو چینی فروخت کرنے کی ہدایت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔