پانی اور بجلی کےسابق وفاقی وزیر کو گرفتار کر کے تھانے کی حوالات میں بند کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
سٹی42: پانی اور بجلی کےسابق وفاقی وزیر کو گرفتار کر کے تھانے کی حوالات میں بند کر دیا گیا۔
سندھ کے شہر نوشہرو فیروز میں جی ڈی اے کے رہنما، پانی اور بجلی کےسابق وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی ایک مقدمہ میں عدالت سے ضمانت لے کر باہر نکلے تو کچپرہ کے احاطہ مین پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
پیر کے روز غلام مرتضی جتوئی نوشہرو فیروز میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ک سے فارنگ کے ایک مقدمہ میں ضمانت لینے کے لئے آئے تھے۔ عدالت نے ان کی ضمانت منطور کر لی تھی، پولیس نے انہیں عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کر لیا۔
کھسر پھسر پر قومی اسمبلی کی سیٹ کیوں چھوڑوں؟ پارٹی پر قبضہ نہیں ہونے دونگا: شیر افضل
غلام مرتضیٰ جتوئی کی گرفتاری کے متعلق پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ غلام مرتضیٰ جتوئی کو ایک اور کیس میں حراست میں لیا گیا ہے۔
غلام مرتضیٰ جتوئی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے مرکزی رہنما ہیں۔ وہ سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے بیٹے ہیں۔ غلام مصطفیٰ جتوئی سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پہلی جلاوطنی کے دوران پیپلز پارٹی کے پاکستان میں ستون تھے، بعد میں انہوں نے شہید بی بی کا ساتھ چھوڑ کر اپنی نیشنل پیپلز پارٹی بنا لی تھی۔ جی ڈی اے کو سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت کی اپوزیشن سمجھا جاتا ہے۔
رمضان سے پہلے برائلرکی اونچی اڑان۔!
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: غلام مرتضی گرفتار کر
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔