Juraat:
2026-06-03@07:23:40 GMT

جس گلی میں پیدا ہوا آج بھی وہیں رہتا ہوں، سرفرازاحمد

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT

جس گلی میں پیدا ہوا آج بھی وہیں رہتا ہوں، سرفرازاحمد

جب محسوس کروں گا کہ میرا وقت ختم ہو چکا ہے تو خود کھیل کو خیرباد کہہ دوں گا، انٹرویو
سابق کپتان سرفراز احمد کی شاندار کپتانی میں پاکستان پہلی بار چیمپئنزٹرافی جیت سکا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد انٹرنیشنل کرکٹ سے کب دوری اختیار کریں گے، اس حوالے سے انھوں نے اپنی آرا کا اظہار کردیا۔چیمپئنزٹرافی فاتح کپتان سرفراز احمد کافی عرصے سے قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام ہیں، اس بار چیمپئنزٹرافی میں بھی وہ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں، ایسے میں ایک حالیہ انٹرویو میں سرفراز نے اپنی ریٹائرمنٹ سے متعلق گفتگو کی ہے۔سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ جب محسوس کروں گا کہ میرا وقت ختم ہو چکا ہے تو خود کھیل کو خیرباد کہہ دوں گا، ہر کھلاڑی کو کسی نہ کسی وقت ریٹائر ہونا پڑتا ہے۔اپنی شاندار کپتانی میں پاکستانی کو پہلی بار آئی سی سی چیمپئنزٹرافی جتوانے والے سابق قائد نے کہا کہ جس گلی میں پیدا ہوا آج بھی وہیں رہتا ہوں، وہاں کے لوگوں نے مجھے بیحد پیار کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ بہت ممکن ہے کہ میری آنے والی زندگی بھی یہیں گزرے، میں نے اپنی کرکٹ کی شروعات انہی گلیوں میں ٹیپ بال کرکٹ سے کی، میری کامیابی کا راز انہی گلیوں کی کرکٹ اور محنت میں پوشیدہ ہے۔پاکستان کے سابق کپتان نے آخری ٹیسٹ میچ دسمبر 2024 جبکہ آخری ون ڈے جنوبی افریقا کیخلاف 2021 میں کھیلا تھا اس کے بعد سے انھیں ون ڈے میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔پاکستان سپر لیگ 10 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سرفراز احمد کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا تاہم انھیں میونٹور کی ذمہ داری سونپی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم