طارق فضل چوہدری کامحمود اچکزئی کوبانی پی ٹی آئی کی باتوں میں نہ آنے کامشورہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
اسلام آباد:قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے چیف وہپ طارق فضل چوہدری نےاپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کوبانی پی ٹی آئی کی باتوں میں نہ آنے کامشورہ دے دیا۔
طارق فضل چوہدری نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کہاکہ بانیپی ٹی آئی عمران خان کی باتوں میں نہ آئیں اگر وہ مکر گئے تو آپ کی ساری عمر کی ساکھ خراب ہوجائے گی،محمود خان اچکزئی کو نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کی سیاست کب تک چلے گی، 8 فروری کے انتخابات غلط تھے تو ایوان میں ثبوت بھی پیش کریں، وزیراعظم شہباز شریف نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کی ہے اور آج معاشی اشاریے حکومت کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
محمود خان اچکزئی کو مخاطب کرکے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی باتوں میں نہ آئیں، اگر وہ مکر گئے تو آپ کی ساری عمر کی ساکھ خراب ہو جائے گی، آپ کے دماغ میں تضادات کی آندھی چلی ہوئی ہے، کسی ایک بات پر ایک جگہ کھڑے ہوں تو آپ کو استحکام نظر آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج آپ جس کی حمایت کر رہے ہیں اس نے اپنے دور میں آپ کو بھی نہیں بخشا، آج سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی پر یہ وقت آ چکا ہے کہ وہ مفاہمت کے لیے آپ کے ساتھ ہے لیکن اخلاقی طور پر اپنے سابقہ رویے پر اس نے کوئی معذرت تک نہیں کی۔
طارق فضل چوہدری نےکہا کہ عوام ترقی، خوش حالی اور ملک کو معاشی استحکام دینے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں