Express News:
2026-07-24@02:02:55 GMT

پنجاب زرعی پاور ہائوس

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT

آسمان کی نامہربانیوں اور قدرتی آفتوں سے محفوظ رہنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ قوم اﷲ و تبارک و تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے، اجتماعی توبہ و استغفارشاید ابر کرم کا باعث بن جائے۔ گو موسمیات والوں نے آیندہ چند دنوں میں بارشوں کی خبر دی ہے مگر یہ خبریں ہم پہلے بھی سنتے رہتے ہیں ، اگر ملک کے چند حصوں میں بارش ہو بھی گئی تو باقی زمینوں کا کیا بنے گاجہاں فصلیں بارش کی منتظر ہیں۔ شہروں میں بیٹھ کر آپ اس اذیت کا اندازہ نہیں کر سکتے جو دیہات میں کسانوں پر گزر رہی ہے ۔

خشک سالی نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔ مگر افسوس کہ موسم پر کسی کا اختیار نہیں اور موسم کی اس خوفناک تبدیلی نے ہمارے خواب پریشاں کر دیے ہیں ۔گاؤں سے اچھی فصل کی خبریں موصول ہورہی تھیں اورخود مجھے امید تھی کہ اس دفعہ پہاڑوں کے صاف پانی سے پروان چڑھتی خوش ذائقہ اور قوت سے بھر پور گندم لاہور میں دوستوں کو تحفہ دوں گا۔ لیکن زراعت ہمیشہ آسمان کی محتاج رہتی ہے ۔

زراعت کے تمام اصولوں کی پابندی کریں، خوب محنت کریں لیکن فصل کی زندگی کا ہر لمحہ قدرت کی مہربانی کا محتاج رہتا ہے، یہ کوئی فیکٹری نہیں ہوتی کہ ایک طرف سے خام مال ڈالیں اور دوسری طرف سے تیار مال نکال لیں ، یہ زراعت ہے جو موسم کی مہربانی کے ساتھ قدم بقدم چلتی ہے، ذرا سی نامہربانی ہوئی تو قدم اکھڑ گئے ۔

کسی کارخانے کو اگر آگ لگ جائے تو انشورنس والے مدد کو آجاتے ہیں مگر فصل کی انشورنس نہیں ہوتی اور کی تباہی صرف اور صرف کاشت کار کو برداشت کرنی پڑتی ہے، حکومت اگر کبھی بڑا کمال کرے تو بلا سود قرض کا اعلان کر دیتی ہے، جس کے پاس دو وقت کے کھانے کا نہ ہو وہ بلاسود قرض لینے کی ہمت کیسے کرے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دعویٰ تو زرعی ملک کا کرتے ہیں اوراسمبلیوں میں براجمان فیصلہ سازوں کی اکثریت کا تعلق بھی دیہات سے ہوتا ہے مگر وہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر ایسی مراعات کے پیچھے دوڑتے ہیں جن کی مدد سے وہ شہری بن سکیں، ان کا مطمع نظر صرف کوئی کارخانہ لگانا، شہر میں بڑا بنگلہ بنانا اور بچوں کی اعلیٰ تعلیم رہ جاتا ہے۔

ہمارے اصل حکمرانوں کا تعلق چونکہ شہروں سے ہوتا ہے، اس لیے ان کی توجہ صرف شہروں پر مرکوز رہتی ہے اور دیہات ان کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں اور دیہات سے منتخب ہو کر آنے والے نمایندے بھی انھی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔ ہم ایک کوتاہ نظر قوم ہیں جو بار بار اپنے لیڈروں کے کھلے فریبوں کا شکار ہوتے ہیں مگر ووٹ پھر بھی انھی کو دیتے ہیں۔

موسم کی تبدیلی کے اثرات پر ابھی تک ہماری حکومت کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی ۔ موسمیات کے ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ خوفناک خوش سالی نے عملاًہماری زراعت کی کمر توڑ دی ہے ۔ حکومت پنجاب کی جانب سے چولستان میںگرین پاکستان کے نام سے ایک زراعتی منصوبے کی داغ بیل ڈالی گئی ہے اور اس منصوبے کے افتتاح کے موقع پر ہمارے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے پنجاب کو پاکستان کا زرعی پاور ہاؤس قرار دیا ہے جب کہ محترمہ مریم نواز نے اس منصوبے کو صوبے کے کسانوں کی ترقی میں نئے سفر کا آغاز قرار دیا ہے۔

چولستان کے وسیع و عریض ریگستان کو سبزہ زار میں تبدیل کرنے کا یہ منصوبہ بلاشبہ ڈوبتی زراعت کے لیے انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے اگر حکومت کاشتکاروں کی صحیح معنوں میں داد رسی کرے۔ چولستان کے ریگستان کو آباد کرنے کے لیے گرین پاکستان کے سائے تلے کاشتکاروں کو قرضہ جات کے بجائے رعائتی نرخوں پر زراعت سے متعلقہ مشینری،ڈیزل، کھاد، بیج اور ادویات کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے جس کا وعدہ محترمہ مریم نواز نے کیا ہے ۔

میری وزیر اعلیٰ سے گزارش ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ان زرعی ماہرین کو اس منصوبے میں شامل کیا جائے جو نئی زمینوں کی آباد کاری کا تجربہ رکھتے ہوں تا کہ گرین پاکستان کے پلیٹ فارم سے شروع کیے اس منصوبے کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے ، اس کے لیے فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیںلیکن اگر یہ منصوبہ بھی کسی سرکاری بابو کے حوالے کر دیا گیا تو پھر اس کی کامیابی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ، پنجاب کو پاکستان کا حقیقی معنوں میںزرعی پاور ہاؤس بنانے کے لیے حکمرانوں کی نیک نیتی کی ضرورت ہے جو کسانوں کو عزت دے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش