بارکھان بس حملہ، مجرموں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، حکومت اور سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل سدباب کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ بلوچستان میں بارکھان کی تحصیل رکھنی میں نامعلوم مسلح افراد نے شناختی کارڈ دیکھ کر سات مسافروں کو بس سے اتارکر قتل کر دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے شہر بارکھان میں دہشتگردوں کا بس کے مسافروں کو جاں بحق کرنے پر رنج و ملال کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے جاں بحق ہونیوالے افراد کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر و استقامت کی دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کرتے یہوئے کہا کہ نہتے اور معصوم شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کو بہت سخت قیمت ادا کرنی پڑے گی، معصوم شہریوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، حکومت اور سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل سدباب کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ بلوچستان میں بارکھان کی تحصیل رکھنی میں نامعلوم مسلح افراد نے شناختی کارڈ دیکھ کر سات مسافروں کو بس سے اتارکر قتل کر دیا تھا۔ واقعہ رکھنی کو ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی شاہراہ پر پیش آیا، جہاں 10 سے 12 دہشتگردوں نے کوئٹہ سے فیصل آباد جانیوالی مسافر بس کو روکا اور اس میں سے 7 مسافروں کو شناخت کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا اور فرارہو گئے۔ جاں بحق افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ بارکھان میں شہید ہونیوالوں کی لاشوں کو ہسپتال لایا گیا، قانونی کارروائی کے بعد لاشوں کو پنجاب روانہ کر دیا گیا ہے۔ دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں میں، عدنان مصطفی ولد غلام مصطفی، ذات رحمانی، بورے والا، ڈی ایس پی (ر) عاشق حسین ولد غلام سرور ولد قصبہ، محمد عاشق ولد داؤد علی شیخوپورہ، شوکت علی ولد سردار علی فیصل آباد، عاصم علی ولد محمود علی منڈی بہاؤالدین، محمد اجمل ولد اللہ وسایا لودھراں اور محمد اسحاق ولد محمد حیات ملتان شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسافروں کو کر دیا
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔