WE News:
2026-07-24@14:51:52 GMT

پاکستان میں غیر ملکی نیٹ ورک کی سمز کیخلاف کریک ڈاؤن کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT

پاکستان میں غیر ملکی نیٹ ورک کی سمز کیخلاف کریک ڈاؤن کیوں؟

پاکستان میں غیر ملکی موبائل نیٹ ورکس کی جاری کردہ سمز کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے لیے دردِ سر بنتا جارہا ہے کیونکہ جہاں ان سمز کے استعمال سے ملک کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہورہے ہیں، وہیں دوسری جانب لوگ ان سموں کو سوشل میڈیا مونیٹائزیشن کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں برطانوی سم کے ذریعے ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ایپ کی مونیٹائزیشن ممکن ہے کیونکہ پاکستان میں گنتی کی چند ہی سوشل میڈیا ایپس کی مونیٹائزیشن کا آپشن موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سب سے زیادہ غیر قانونی سمز انگلینڈ کی استعمال ہورہی ہیں، ایف آئی اے کا انکشاف

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے ملک بھر میں غیر ملکی سمز کی خرید و فروخت کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر وقار الدین سید نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ پاکستان میں غیرقانونی موبائل سمز کا نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف سائبر کرائمز میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مرحومین کے نام الاٹ موبائل فون سمز اپنے نام منتقل کروانے کا آخری موقع

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق سائبر کرائم کی تفتیش کرنے والی ٹیموں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ برطانیہ کی سمز ان جرائم کے لیے خاص طور پر پسندیدہ ہیں، اب تک 44 افراد کو گرفتار کرکے 8 ہزار 363 انٹرنیشنل سمز برآمد کی جاچکی ہیں۔

ان غیر ملکی نیٹ ورکس کی جاری کردہ سمز مارکیٹ میں بڑی آسانی سے دستیاب پائی گئی ہیں، جہاں ان کی پری ایکٹیویشن اور کم قیمتیں انہیں خریداروں کے لیے مزید پرکشش بناتی ہیں۔

غیر ملکی نیٹ ورکس کی سمز کا استعمال کیوں مقبول ہے؟

غیر ملکی نیٹ ورکس کی سمز کی خرید وفروخت سے وابستہ راولپنڈی کے رہائشی خرم شاہد نے بتایا کہ پاکستان میں غیر ملکی سمز کے استعمال کی کئی وجوہات ہیں، سب سے بڑی وجہ ان سمز کے ذریعے سستے نرخوں پر کالز اور ڈیٹا پیکجز کی دستیابی ہے۔

خرم شاہد کے مطابق خاص طور پر اگر غیر ملکی سمز کسی دوسرے ملک میں سستی اور بہتر سروس فراہم کر رہی ہوں، تو پاکستانی شہری وہ سم خرید کر استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا غیرقانونی سمز کیخلاف ایکشن، مرحلہ واربندش کا آغاز

’اس کے علاوہ، ان سمز کے ذریعے بین الاقوامی کالز اور ٹیکس فری سروسز تک رسائی ممکن ہوتی ہے، جو پاکستانی موبائل نیٹ ورک سے کہیں زیادہ سستی پڑتی ہیں۔‘

آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوں میں ان سمز کا رجحان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اس کی وجہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مونیٹائزیشن ہے کیونکہ غیر ملکی لوکیشن کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کمائی کے ذرائع میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے کا 5 شہروں میں سموں کے غیر قانونی اجرا پر کریک ڈاؤن

واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے نے غیر ملکی سمز کے استعمال کے خلاف مختلف اقدامات کیے ہیں، 2018 میں پی ٹی اے نے غیر ملکی سمز کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے ایک نیا قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت غیر ملکی سمز کو پاکستانی سرزمین پر فعال ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ، تمام غیر ملکی سمز کو پاکستانی نمبر کے ساتھ رجسٹر کرانے کی شرط بھی عائد کی گئی تھی تاکہ ان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ حکومت کا مقصد اس عمل کے ذریعے دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے ان سمز کا استعمال روکنا تھا۔

مزید پڑھیں: موبائل لون ایپس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 9 ملزمان گرفتار

اسی ضمن میں گزشتہ ہفتے پی ٹی اے اور ایف آئی اے نے غیر قانونی موبائل سم فروخت کرنے والوں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق ایبٹ آباد، اسکردو، پشاور، لاہور اور سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں میں چھاپے مار کر متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: موبائل سمز کے اجرا کے طریقے میں تبدیلی

پی ٹی اے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی سم کارڈز کی ترسیل اور فروخت کو روکنے کے لیے سخت ریگولیٹری اقدامات کیے جارہے ہیں، خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پاکستان میں غیر ملکی نیٹ ورکس کی جاری کردہ سمز کا استعمال سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے، دہشت گرد تنظیمیں اور دیگر جرائم پیشہ گروہ ان سمز کا استعمال اپنے مقاصد کے لیے کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دہشتگرد تنظیموں کے سوشل میڈیا استعمال پر قابو پانے کا فیصلہ

’غیر ملکی سموں کی شناخت اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ذریعے کالز، میسجز، اور دیگر کمیونیکیشنز کو ٹریک کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اس کے نتیجے میں سیکیورٹی ایجنسیاں دہشت گرد حملوں، فون سکیمز اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں بروقت اطلاعات حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسکردو ایبٹ آباد ایف آئی اے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پری ایکٹیویشن پی ٹی اے سم کارڈز سوشل میڈیا سیالکوٹ مونیٹائزیشن وقار الدین سید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایبٹ ا باد ایف ا ئی اے پی ٹی اے سم کارڈز سوشل میڈیا سیالکوٹ مونیٹائزیشن وقار الدین سید پاکستان میں غیر ملکی غیر ملکی نیٹ ورکس کی سمز کا استعمال کہ پاکستان میں سمز کے استعمال غیر ملکی سمز غیر ملکی سم ایف ا ئی اے سوشل میڈیا مزید پڑھیں کے ذریعے اور دیگر پی ٹی اے سمز کی کی سمز کی وجہ کے لیے

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیھلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ