پچھلے مالی سال میں حکومتی ملکیتی اداروں کا اوسط خسارہ 851 ارب روپے رہا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کی حکومتی ملکیتی اداروں کا سال 2024میں اوسط خسارہ 851 ارب روپے رہا، بڑے خسارے والے حکومتی ملکیتی اداروں میں سرفہرست نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے) کا خسارہ 295ارب50کروڑ روپے ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزارت خزانہ نے حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی ( کیسکو) کا خسارہ 120ارب40کروڑ روپے، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( پیسکو) 88 ارب 70کروڑ ر وپے، پی آئی اے کا 73 ارب 50کروڑ روپے، پاکستان ریلوے کا 51 ارب 30 کروڑ روپے، سیپکو ( سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی) کا 37ارب روپے، لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ) کا 34 ارب 50کروڑ روپے، پاکستان سٹیل ملز کا 31 ارب 10کروڑ ر وپے، حیسکو ( حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی) کا 22 ارب 10 کروڑ روپے، جنکو ٹو کا 17 ارب 60کروڑ روپے، آئیسکو (اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی)، پاکستان پوسٹ کا 13 ارب40کروڑ روپے، ٹیسکو ( ٹرائبل ایریا الیکٹرک سپلائی کمپنی) کا ساڑھے 9 ارب روپے،گیپکو (گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی) کا ساڑھے 8 ارب روپے، جنکو تھری کا 7 ارب80کروڑ روپے اور دیگر کمپنیوں کا مجموعی خسارہ 23 ارب 70کروڑ روپے رہا۔
رپورٹ کے مطابق منافع بخش اداروں میں سرفہرست او جی ڈی سی ایل کا منافع 208 ارب 90کروڑ روپے، پٹرولیم لمیٹڈ کا 115 ارب 40 کروڑ روپے، نیشنل پاور پارکس کا 76 ارب 80 کروڑ روپے، گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کا 69 ارب 10کروڑ روپے، پاک عرب ریفائنری کمپنی کا 55 ارب روپے، پورٹ قاسم اتھارٹی کا 41 ارب روپے، میپکو (ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی) کا 31ارب 80کروڑ روپے، نیشنل بینک کا 27 ارب 40کروڑ روپے، واپڈاکا منافع 22 ارب 20 کروڑ روپے، کے پی ٹی کا 20 ارب 30کروڑ روپے، پی این ایس سی کا 20 ارب 10کروڑ روپے، پی ایس او کا 19ارب 60کروڑ روپے، سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا 18 ارب 30کروڑ روپے، پی کے آئی سی کا 15 ارب 20کروڑ روپے منافع ریکارڈ کیاگیا۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے خسارے میں جانیوالے اداروں کی 1586ارب روپے کی مالی معاونت کی، اس میں 367 ارب روپے گرانٹس، 782ارب روپے سبسڈیز ، 336ارب قرض اور 99 ارب روپے ایکویٹی کی صورت میں فراہم کیا گیا، یہ مجموعی وفاقی بجٹ کی وصولیوں کا 13فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 میں حکومتی ملکیتی اداروں نے قومی خزانے میں مجموعی طور پر 2062 ارب روپے جمع کرائے، ان میں ٹیکس کی مد میں 372 ارب روپے جمع کرائے، نان ٹیکس ریونیو، رائلٹی اور لیویز کی مد میں 1400 ارب روپے جمع کرائے، ڈیویڈنڈ کی مد میں 82 ارب روپے اور منافع کی مد میں 206 ارب روپے جمع کرائے۔
مالی سال 2024 میں حکومتی ملکیتی اداروں کا مجموعی ریونیو 13524ارب روپے پیدا ہوا جو مالی سال 2023 میں 12848 ارب روپے تھا، اس ریونیو میں 5.
جنرل ساحر شمشاد مرزا سے چیف آف سٹاف بحرین نیشنل گارڈ کی ملاقات،خطے کی بدلتی صورتحال اور سیکیورٹی سے متعلق امور پرگفتگو
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ارب روپے جمع کرائے کروڑ روپے کی مد میں مالی سال کے مطابق
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔