WE News:
2026-07-24@14:02:07 GMT

وزیراعظم اور چیف جسٹس کی مُلاقات میں کیا ہوا؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT

وزیراعظم اور چیف جسٹس کی مُلاقات میں کیا ہوا؟

گزشتہ روز سپریم کورٹ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ میں ملاقات کی۔

وزیراعظم کا خط

12 فروری کو جب آئی ایم ایف وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی تو اُس کے بعد چیف جسٹس نے صحافیوں سے خصوصی ملاقات کی، جس میں اُنہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف وفد کی آمد سے قبل اُنہیں وزیراعظم کا ایک خط ملا، جس میں اُنہوں نے چیف جسٹس کو بتایا کہ آئی ایم ایف پاکستان میں جائیداد کے حق ملکیت کا تحفظ اور کنٹریکٹ حقوق کے بارے میں یقین دہانی چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات، ٹیکس سے متعلق کیسز کے فیصلے میرٹ پر جلد سنانے کی استدعا

آپ کے خط کا جواب نہیں دوں گا

چیف جسٹس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ میں نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کے خط کا جواب نہیں دوں گا، بلکہ آپ خود سپریم کورٹ تشریف لائیں ہم آپ کے ساتھ نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی کا ایجنڈا شیئر کریں گے اور اُس کے بارے میں آپ اپنی تجاویز دے سکتے ہیں، کیونکہ ہم پہلے ہی عدالتی نظام کی اصلاح پر کام کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی، اس موقع پر اُن کے ساتھ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور مشیر احمد چیمہ بھی تھے۔

سپریم کورٹ کا اعلامیہ

سپریم کورٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے حوالے سے حزبِ اختلاف کو بھی اعتماد میں لوں گا تاکہ اصلاحات غیرمتنازع اور پائیدار ہوں۔ اور وزیراعظم نے چیف جسٹس سے ٹیکس معاملات پر جلد فیصلے کرنے کی بھی گزارش کی۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات پر آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ملاقات میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن بھی شریک ہوئیں۔

کیا انتظامی عہدیداران سے چیف جسٹس مِل سکتے ہیں؟

15 فروری کو یہ سوال جب ہم نے ماہرین آئین و قانون کامران مرتضیٰ اور اکرام چوہدری کے سامنے رکھا تو اُن کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور انتظامیہ 2 الگ اگ شعبے ہیں۔ گو کہ چیف جسٹس کے آئی ایم وفد سے ملنے پر کوئی قدغن نہیں لیکن عدالتی روایات کے مطابق تو چیف جسٹس یا دیگر ججز اپنے ملک کے وزیراعظم اور انتظامی عہدیداران سے بھی نہیں ملتے۔

اِس سے قبل ہمیں چیف جسٹس اور وزرائے اعظم کے درمیان ون آن ون ملاقاتوں کا پتا نہیں چلتا لیکن وزیراعظم شہباز شریف 2 چیف جسٹس صاحبان کے ساتھ ملاقاتیں کر چُکے ہیں اور اِسی طرح سے سابق وزیراعظم عمران خان اور اُس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقت نثار کے درمیان بھی ایسی ایک مُلاقات ہوئی تھی۔

چیف جسٹس اس سے قبل وزرائے اعظم سے کب ملے؟

28 مارچ 2024 کو وزیراعظم شہباز شریف اِسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے سلسلے میں اُس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ سپریم کورٹ ملنے کے لئے آئے۔

ف

عمران خان اور ثاقب نثار کی ملاقات

05 دسمبر 2018 کو اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں سپریم کورٹ کے منعقدہ سمپوزیم سے پہلے کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چیف جسٹس سے ملاقات ا ئی ایم ایف نے چیف جسٹس سپریم کورٹ ا س وقت کے ملاقات کی کے ساتھ

پڑھیں:

پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی

سٹی 42 : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ 

آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی، ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا، بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ 

آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے، وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے، عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ 

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانبدار تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس