پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے قیمتیں ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے سے متعلق وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کے اعلان کی پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مخالفت کردی۔
ایسوسی ایشن نے وزیر پیٹرولیم کو خط لکھ کر کہا کہ ڈی ریگولیشن سے ملک میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کی فروخت بڑھے گی۔ فیصلے پر نظرثانی کریں اور اس معاملے پر ایسوسی ایشن سے بات کریں۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے دو روز قبل ایک تقریب میں اعلان کیا تھا کہ حکومت پرائس کیپ کے ساتھ آئل سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے جارہی ہے جس کیلئے پالیسی بنا لی گئی ہے وزیر اعظم سے منظوری لی جائے گی۔
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ ڈی ریگولیشن سے پیٹرولیم مصنوعات سستی ہوں گی، شروع میں پیٹرولیم مصنوعات پرائس کیپ کے ساتھ ڈی ریگولیٹ کی جائیں گی، ڈی ریگولیشن سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں سستا تیل بیچ کر زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کر سکیں گی، ڈی ریگولیشن سے آئل سیکٹر میں مسابقت آئے گی۔
وفاقی وزیر کے اس اعلان اور فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے انہیں خط لکھ دیا ہے۔
خط میں کہا ہے کہ ڈی ریگولیشن سے ملک میں اسمگل شدہ ایرانی آئل کی فروخت بڑھے گی ملک میں غیر معیاری تیل کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر پیٹرولیم معاملے پر اجلاس بلائیں اور ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ بات چیت کریں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے ملک بھر 15 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس ہیں اور ڈیلرز نے اس سیکٹر میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے بطور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔
ڈی ریگولیشن معاملہ پر پہلے بھی بات چیت کے ذریعے فیصلہ کرنے کا طے ہوا تھا، گزشتہ بار ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنے کا طے ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم ڈیلرز ڈی ریگولیشن سے ایسوسی ایشن نے وزیر پیٹرولیم ملک میں
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔