ڈیڈلاک برقرار، پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں مفاہمت آگے نہ بڑھ سکی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
مولانا نے اپنے مطالبات میں اپوزیشن اتحاد کی سربراہی، کے پی حکومت میں شمولیت اور مائنس پی ٹی ایم کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دو بار بانی سے ملاقاتوں میں مشاورت کی، چند رہنماؤں نے 26 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے پر عمران خان کو جے یو آئی پر اعتبار نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپوزیشن اتحاد کیلئے مولانا فضل الرحمن کے تین مطالبات بانی پی ٹی آئی عمران خان تک پہنچا دیئے اور جے یو آئی پر اعتبار نہ کرنے کا مشورہ بھی دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپوزیشن اتحاد کیلئے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے تین مطالبات پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان تک پہنچائے، مولانا نے اپنے مطالبات میں اپوزیشن اتحاد کی سربراہی، کے پی حکومت میں شمولیت اور مائنس پی ٹی ایم کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے دو بار بانی سے ملاقاتوں میں مشاورت کی، چند رہنماؤں نے 26 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے پر عمران خان کو جے یو آئی پر اعتبار نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ چھبیسویں ترمیم کی حمایت کرنے پر عمرا ن خان نے مولانا کو تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ خیال رہے اپوزیشن کے گرینڈ الائنس میں ڈیڈلاک برقرار ہے، پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں مفاہمت آگے نہیں بڑھ سکی۔ مولانا فضل الرحمن آج غیرملکی دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جس سے معاملہ کھٹائی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد کی مولانا فضل پی ٹی آئی جے یو آئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔