آسٹریلیا نے انگلینڈ کیخلاف چیمپئنز ٹرافی کا سب سے بڑا ہدف حاصل کرکے تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
آسٹریلیا نے انگلینڈ کیخلاف چیمپئنز ٹرافی کا سب سے بڑا ہدف حاصل کرکے تاریخ رقم کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )چیمپیئنز ٹرافی کے چوتھے میچ میں انگلینڈ نے بین ڈکٹ کی شاندار اننگز کی بدولت آسٹریلیا کو جیت کے لیے چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور بنایا تاہم کینگروز نے 2 اوورز پہلے ہی 352 رنز کا ہدف حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بین ڈکٹ کی 165 رنز کی اننگز کی بدولت مقررہ 50 اوورز میں چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل 351 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔ تاہم، آسٹریلیا نے جوش انگلس کی شاندار سینچری کی بدولت 2 اوورز پہلے ہی 5 وکٹ کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔بین ڈکٹ نے نہ صرف اپنی ٹیم کو اچھا ہدف فراہم کرنے میں مدد کی بلکہ انہوں نے چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ نیوزی لینڈ کے سابق کھلاڑی نیتھن ایسٹل اور زمبابوے کے اینڈی فلاور کے پاس تھا جنہوں نے بالترتیب 2004 اور 2002 میں ، 145 145 رنز بناکر قائم کیا تھا۔
آسٹریلیا بیٹنگ
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کے جارح مزاج اوپنر ٹریوس ہیڈ صرف 6 رنز بنانے کے بعد جوفرا آرچر کے ہاتھوں آٹ ہوگئے جس کے بعد کپتان اسٹیو اسمتھ بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ بھی 5 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔
ابتدائی دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد بظاہر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ انگلینڈ یہ میچ آسانی سے جیت جائے گا لیکن میتھیو شارٹ نے مارنس لبوشین کے ساتھ ملکر 95 رنز کی شراکت قائم کی، لبوشین 47 رنز بنانے کے بعد آٹ ہوگئے۔میتھیو شارٹ نے اپنی نصف سینچری مکمل کی اور وہ 63 رنز بنانے کے بعد پویلین واپس لوٹ گئے جس کے بعد جوش انگلس اور الیکس کیری نے ذمہ دارنہ اننگز کھیلتے ہوئے اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا۔
الیکس کیری نصف سینچری بنانے کے بعد آٹ ہوئے، وہ 69 رنز کی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے تاہم آسٹریلیا کی جیت میں اہم کردار جوش انگلس نے ادا کیا جو 86 گیندوں پر 120 رنز بناکر ناقابل شکست رہے، ان کی اننگز میں 6 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے۔گلین میکسوئل نے 15 گیندوں پر 32 رنز کی اننگز کھیلی وہ بھی ناٹ آٹ رہے، انگلینڈکی جانب سے مارک ووڈ، جوفرا آرچر، برائیڈن کارس، عادل رشید اور لیام لیونگ اسٹون نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
انگلینڈ بیٹنگ
اس سے قبل، آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور انگلینڈ کی ابتدائی 2 وکٹیں جلد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، اننگز کا آغاز کرنے والے فل سالٹ 10 رنز بناکر آٹ ہوئے جب کہ جیمی اسمتھ بھی 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔
بین ڈکٹ نے نہ صرف ون ڈے کیریئر کی تیسری سینچری مکمل کی بلکہ انہوں نے 150 رنز کا ہندسہ بھی عبور کیا، وہ 165 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد آٹ ہوئے جس میں 3 چھکے اور 17 چوکے شامل تھے۔اس دوران ہیری بروکس 3، کپتان جوز بٹلر 23 ، لیام لیونگ اسٹون 14 اور برائیڈن کارس 8 رنز بناکر آٹ ہوئے جب کہ جوفرا آرچر نے آخری لمحات میں 10 گیندوں پر 21 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔
آسٹریلیا کی جانب سے بین دوارشوئس نے 3، ایڈم زمپا اور مارنس لبوشین نے 2،2 جب کہ گلین میکسوئل نے ایک وکٹ حاصل کی۔آسٹریلیا کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے ٹاس کے وقت گفتگو میں کہا کہ پچ کافی اچھی لگ رہی ہے اور ٹریننگ کے دوران کچھ ڈیو پڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون میں ایلکس کیری کو شامل کیا گیا ہے۔انگلش کپتان جوز بٹلر کا کہنا تھا کہ وہ ٹاس جیتتے تو شاید بیٹنگ کا فیصلہ ہی کرتے، تاہم کھلاڑیوں پر پورا اعتماد ہے اور میچ کے لیے بہت پرجوش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تاریخ رقم کردی چیمپئنز ٹرافی ہدف حاصل کرکے بنانے کے بعد آسٹریلیا نے کا سب سے بڑا رنز بناکر کی اننگز آٹ ہوئے بین ڈکٹ رنز کی
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔