وفاقی وزیر سرمایہ کار ی کی باکو میں سٹیٹ آئل فنڈ کے سی ای او سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار)وفاقی وزیر سرمایہ کار ی بورڈ،نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان نے باکو، آذربائیجان میں سٹیٹ آئل فنڈ کے سی ای او اسرافیل ماما دوف سے وفد کے ہمراہ ملاقات و اجلاس میں دونوں ممالک کے مابین باہمی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے مختلف امور پر غور و خوض کیا۔مراکش کا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد وفاقی وزیر عبدالعلیم خان باکو پہنچے جہاں انہوں نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان پاکستانی عوام کے دلوں کے انتہائی قریب ہے، ہمارے دوستانہ تعلقات بہتری اور مضبوطی کی طرف گامزن ہیں جس میں پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ اسلام آباد میں آذربائیجان۔پاکستان چیمبر آف کامرس کے مشترکہ قیام کے بعد سرمایہ کاروں کے لئے نمائشی مراکز کے قیام کے خواہاں ہیں تاکہ مصنوعات کو اچھے انداز میں شو کیس کیا جا سکے اور امپورٹ ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن ہو۔ وفاقی وزیر نے آذربائیجان کے سٹیٹ آئل ادارے "سوفاز "سے کاروباری امکانات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین شراکت داری نئے مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان میں مواصلات کے شعبے میں بھی انویسٹمنٹ کر سکتا ہے جس میں بالخصوص سندھ اور کراچی کی موٹرویزشامل ہیں جس سے پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں سے منسلک ہونے میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عبدالعلیم خان وفاقی وزیر کہا کہ
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔