Express News:
2026-06-03@06:51:11 GMT

بلڈر مافیا اور سیاستدان

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

بلڈر مافیا سیاست دانوں کو اپنا پارٹنر بناتی ہے، یوں 100 گز کے پلاٹ پر آٹھ آٹھ منزلہ عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں۔ ایک سے دو منزلہ بنانے کی اجازت ہوتی ہے مگر بلڈر آٹھ سے دس منزلہ بنا لیتے ہیں۔

بارش کم بھی ہوں، پھر بھی یہ عمارتیں جگہ چھوڑ دیتی ہیں۔ سماجی کارکن فیصل ایدھی نے اپنے مختصر اور جامع تجزیے میں لیاری میں گرنے والی عمارتوں کے حقائق کو آشکار کردیا۔ لیاری میں آٹھ چوک کے قریب پانچ منزلہ عمارت کے زمین بوس ہونے سے 27 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں سے 20 کا تعلق ہندو برادری سے ہے۔ یہ سب غریب لوگ تھے جنھوں نے اپنی زندگی کی تمام کمائی اس عمارت میں فلیٹ حاصل کرنے پر لگا دی تھی۔ امدادی کارکن ملبے میں سے ایک 3 ماہ کی بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوئے جس کو معمولی زخم آئے تھے۔

ایک امدادی کارکن کا خیال ہے کہ ماں نے اپنی جان بچانے کے بجائے بچی کی جان بچانے کے لیے بچی کو دور پھینکنے کی کوشش کی تھی۔ بچی کو جب ملبہ سے نکالا گیا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا ہے کہ کراچی میں 564 کے قریب عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے جن میں سے 400 سے زیادہ عمارتیں ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہیں۔ کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں بہت سی عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں۔

وزیر بلدیات کا کہنا ہے کہ لیاری میں قیام پاکستان سے پہلے کی عمارتیں موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ مخدوش عمارتیں لیاری میں ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کا کہنا ہے کہ مخدوش عمارتوں کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں مگر اس حادثے کی رپورٹنگ کرنے والے رپورٹروں کا کہنا ہے کہ گرنے والی عمارت پہلے تین منزلہ تھی اور یہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تعمیر ہوئی اور ناقص تعمیر کی بناء پر جلد ہی کمزور ہوگئی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے فرض شناس افسروں نے عمارت کو مخدوش قرار دینے کی کارروائی مکمل کی تھی مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر مزید دو منزلیں تعمیر ہوگئیں۔ وزیر بلدیات نے اپنی پریس کانفرنس میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن نے اس عمارت کی خستہ حالی کی جانب توجہ مرکوز کرائی تھی۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور تعمیر کے ماہر ڈاکٹر سروش لودھی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں عمارتوں کی تعمیر میں اسٹرکچرل انجینئرنگ استعمال ہی نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کراچی میں عمارتوں کی تعمیر کے لیے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا تھا جس کی مجاز اتھارٹی نے منظوری دی تھی مگر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والوں نے اس ضابطہ اخلاق کو اہمیت ہی نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ آباد کے سربراہ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ بلڈنگ تعمیرکرنے کے ذمے دار ٹھیکیدار اور اتھارٹی کے افسروں کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں۔

 کراچی میں اس عمارت کے زمین بوس ہونے اور اتنی زیادہ ہلاکتوں کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ایک مافیا میں تبدیل ہوجانا ہے۔ چند سال قبل تک کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اپنے دائرہ اختیار میں کام کررہی تھی مگر اس ادارے کی کارکردگی ناقص تھی۔ شہریوں کو عام شکایت تھی کہ کسی عمارت کی تعمیر کا نقشہ منظور کرانے کے لیے اور پھر عمارت کی تکمیل کے سرٹیفکیٹ کے لیے چمک یا سفارش سب سے اہم عناصر سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پورے شہر میں قواعد و ضوابط کو نظراندازکرتے ہوئے بلند عمارتوں کی تعمیر شروع ہوگئی، پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ بڑے فیصلے کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔

اب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ضم کردیا گیا تو اتھارٹی کی کارکردگی بجائے بہتر ہونے کے مزید خراب ہونے لگی۔ بعض متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے جو کام سیکڑوں اور ہزاروں میں ہوتا تھا، اب اس کام کے لاکھوں اور کروڑوں روپے کھلے عام مانگے جارہے ہیں۔ نیب نے چند سال قبل بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے خلاف اربوں روپے کے اثاثے رکھنے کا مقدمہ قائم کیا تھا مگر موصوف اطمینان سے کینیڈا جا کر بس گئے۔

وزیر بلدیات کا دعویٰ ہے کہ اس عمارت کے مکینوں کو نوٹس بھیجنے کے لیے متعلقہ عملہ نے فائل ورک مکمل کیا تھا مگر یہ نوٹس اسی طرح بھیجے گئے تھے جیسے کسی ایسوسی ایشن کے اجلاس کے انعقاد کے نوٹس بھیجے جاتے ہیں، یوں محض ہر نوٹس کے عوض لاکھوں روپے لے کر کام کو جاری رکھا گیا۔ لیاری میں ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 100 سے 200 گز کے پلاٹ پر آٹھ سے دس منزلہ عمارت بننا ایک معمول بن گیا۔ یہ عمارتیں ایک دن میں تعمیر نہیں ہوتیں، کئی ماہ لگتے ہیں۔ افسران کی ذمے داری ہے کہ نقشے کے مطابق عمارت کی تعمیر کو یقینی بنائیں اور عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مٹیریل کے معیار پر بھی نظر رکھیں مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ متعلقہ افسران اپنے فرائض کی انجام دہی کے علاوہ دیگر کام کرتے ہیں۔

 سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف حصوں میں پوسٹنگ کے لیے بڑے پیمانہ پر رقم کی ادائیگی یا سندھ میں قائم ’’سسٹم‘‘ کے رہنماؤں کی سفارش ضروری ہوتی ہے۔ کراچی میں ہر سال کوئی نہ کوئی عمارت گرتی ہے یا ہر سال کسی نہ کسی بلند عمارت میں آتش زدگی کا واقعہ رونما ہوتا ہے۔ دو سال قبل ایک عمارت میں آتش زدگی کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ فائر بریگیڈ کے افسران ہمیشہ کہتے ہیں کہ ان کے محکمے کے پاس پانچ منزل سے زیادہ اونچی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے مگر اس حقیقت کے باوجود 10 سے 15 منزلہ عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں۔ ایک اہم معاملہ امدادی کاموں کا ہوتا ہے۔

یہ عمارت ایک چھوٹی سے گلی میں واقع ہے، جہاں ایک ہجوم جمع ہوگیا جس سے امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ریسکیو محکمے کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ کئی سماجی کام کرنے والی تنظیموں کے رضاکار بھی امدادی کام میں شامل ہوگئے تھے۔ بقول اس افسر کے یوں امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اس علاقے میں بہت زیادہ شور ہورہا تھا جس کی بناء پر ملبے میں دبے ہوئے انسانوں کا پتہ چلانے والے سائنسی آلات کے سگنل ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے، اگر ماحول کو کنٹرول کیا جائے تو ان حساس آلات کی بناء پر ملبے میں دبے ہوئے زندہ افراد کی جلد نشاندہی ہوسکتی ہے۔ لیاری میں منتخب قیادت متحرک ہوتی تو ہجوم کو منتشر کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا۔

 صدر اور وزیر اعظم نے لیاری میں 27 غریب افراد کی ہلاکت کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ وزیر اعلیٰ نے بھی حادثہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تین وزراء نے ایک پریس کانفرنس میں مرنے والے ہر فرد کے لیے 10 لاکھ روپے ادا کرنے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سمیت عملے کے کئی افراد کو معطل کرنے کا اعلان کیا ۔ لیاری میں عمارتوں کے گرنے کی تاریخ پرانی ہے۔اب بھی وقت ہے کہ اس سانحے کے ذمے داروں کو گرفتار کیا جائے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بدعنوان افسروں کو فارغ کیا جائے اور بہرصورت عمارتوں کی تعمیر کے لیے نافذ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے جو بلڈر مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں۔

محض چند افراد کو معطل کرنے سے صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ میڈیا رپورٹس سرکاری اعداد شمار سے بڑھ کر کراچی شہر میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کر رہی ہیں جن کی تعداد دوہزار سے بھی زائد ہیں اور یہ سات آٹھ منزلہ عمارتیں سو گز کے رقبے پر محیط پلاٹس پر تعمیرکی گئی ہیں، یہ رجحان گذری، لیاقت آباد اور دیگر کئی علاقوں میں تیزی سے بڑھتا دیکھا گیا ہے جس کا سدباب نہ کیا گیا تو سانحہ لیاری جیسی مزید صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عمارتوں کی تعمیر کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات منزلہ عمارت امدادی کام کی بناء پر کراچی میں لیاری میں عمارت کی ہی نہیں کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب