پاور پراجیکٹ میں کرپشن، محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے 4 افسران گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یچھلتو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں جعلی اور زائد ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ تعمیراتی کام بھی ناقص ہے۔ اس ناقص تعمیر کا اثر پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت پر پڑ سکتا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چاروں افسران کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان کی بڑی کارروائی، واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے چار افسران کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان نے 2 میگاواٹ یچھلتو پاور پراجیکٹ استور کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کی شکایات کی مکمل چھان بین کے بعد واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے چار افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں دو ایگزیکٹو انجینیئرز (ایکسئین)، ایک سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او)، اور ایک سب انجینیئر شامل ہیں، جن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یچھلتو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں جعلی اور زائد ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ تعمیراتی کام بھی ناقص ہے۔ اس ناقص تعمیر کا اثر پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت پر پڑ سکتا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چاروں افسران کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پاور پراجیکٹ پراجیکٹ کی افسران کو
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔